السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من يجري عليه الرق باب: اس شخص کا بیان جس پر غلامی نافذ کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 18067
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، قَالَ: قَدْ سَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهَوَازِنَ وَقَبَائِلَ مِنَ الْعَرَبِ وَأَجْرَى عَلَيْهِمُ الرِّقَّ حَتَّى مَنَّ عَلَيْهِمْ بَعْدُ، فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْمَغَازِي، فَزَعَمَ بَعْضُهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَطْلَقَ سَبْيَ هَوَازِنَ قَالَ: " لَوْ كَانَ تَامًّا عَلَى أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ سَبْيٌ لَتَمَّ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَلَكِنَّهُ إِسَارٌ وَفِدَاءٌ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: " فَمَنْ ثَبَّتَ هَذَا الْحَدِيثَ زَعَمَ أَنَّ الرِّقَّ لَا يَجْرِي عَلَى عَرَبِيٍّ بِحَالٍ، " وَهَذَا قَوْلُ الزُّهْرِيِّ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَالشَّعْبِيِّ ". وَيُرْوَى عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے بنو مصطلق، ہوازن جو عرب کے قبیلے تھے ان کو غلام بنانے کے بعد احسان کر کے آزاد فرمایا۔ اہل علم کا اس بارے میں اختلاف ہے۔ بعض کا گمان ہے کہ نبی ﷺ نے جب ہوازن کے قیدی چھوڑے تو فرمایا: ”اگر عرب کے کوئی مکمل قیدی ہوتے تو وہ قبیلہ ہوازن کے لوگ تھے لیکن قید کے بعد فدیہ ہونا تھا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے اس حدیث کو ثابت کیا ہے ان کے نزدیک عرب کے باشندے کو غلام نہیں بنایا جاسکتا ہے۔