حدیث نمبر: 18031
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، ثنا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ إِسْلَامُ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَالٍ الْحَنَفِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا اللهَ حِينَ عَرَضَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَرَضَ لَهُ أَنْ يُمَكِّنَهُ اللهُ مِنْهُ، وَكَانَ عَرَضَ لَهُ وَهُوَ مُشْرِكٌ فَأَرَادَ قَتْلَهُ، فَأَقْبَلَ ثُمَامَةُ مُعْتَمِرًا وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَتَحَيَّرَ فِيهَا حَتَّى أُخِذَ، وَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُبِطَ إِلَى عَمُودٍ مِنْ عُمُدِ الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا لَكَ يَا ثُمَامَةُ هَلْ أَمْكَنَ اللهُ مِنْكَ؟ ". قَالَ: وَقَدْ كَانَ ذَلِكَ يَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاكِرٍ، وَإِنْ تَسْأَلْ مَالًا تُعْطَهُ. فَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ مَرَّ بِهِ، فَقَالَ: " مَا لَكَ يَا ثُمَامَ؟ ". فَقَالَ: خَيْرًا يَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاكِرٍ، وَإِنْ تَسْأَلْ مَالًا تُعْطَهُ. ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ ⦗١١٣⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَجَعَلْنَا - الْمَسَاكِينَ - نَقُولُ بَيْنَنَا: مَا نَصْنَعُ بِدَمِ ثُمَامَةَ؟، وَاللهِ لَأَكْلَةٌ مِنْ جَزُورٍ سَمِينَةٍ مِنْ فِدَائِهِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ دَمِ ثُمَامَةَ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ مَرَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا لَكَ يَا ثُمَامَ؟ ". فَقَالَ: خَيْرًا يَا مُحَمَّدُ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَعْفُ تَعْفُ عَنْ شَاكِرٍ، وَإِنْ تَسَألْ مَالًا تُعْطَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْلِقُوهُ فَقَدْ عَفَوْتُ عَنْكَ يَا ثُمَامَ ". فَخَرَجَ ثُمَامَةُ حَتَّى أَتَى حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَاغْتَسَلَ فِيهِ وَتَطَهَّرَ وَطَهَّرَ ثِيَابَهُ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، وَاللهِ لَقَدْ كُنْتَ وَمَا وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَلَا دِينَ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ، وَلَا بَلَدَ أَبْغَضُ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، ثُمَّ لَقَدْ أَصْبَحْتَ وَمَا وَجْهٌ أَحَبَّ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَلَا دِينَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ، وَلَا بَلَدَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ قَدْ خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا وَأَنَا عَلَى دِينِ قَوْمِي، فَبَشِّرْنِي صَلَّى الله عَلَيْكَ فِي عُمْرَتِي. فَبَشَّرَهُ وَعَلَّمَهُ، فَخَرَجَ مُعْتَمِرًا، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ وَسَمِعَتْهُ قُرَيْشٌ يَتَكَلَّمُ بِأَمْرِ مُحَمَّدٍ مِنَ الْإِسْلَامِ، قَالُوا: صَبَأَ ثُمَامَةُ، فَأَغْضَبُوهُ، فَقَالَ: إِنِّي وَاللهِ مَا صَبَوْتُ، وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ مُحَمَّدًا، وَآمَنْتُ بِهِ، وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ ثُمَامَةَ بِيَدِهِ لَا يَأْتِيكُمْ حَبَّةٌ مِنَ الْيَمَامَةِ، وَكَانَتْ رِيفَ مَكَّةَ، مَا بَقِيتُ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَانْصَرَفَ إِلَى بَلَدِهِ، وَمَنَعَ الْحَمْلَ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى جَهَدَتْ قُرَيْشٌ، فَكَتَبُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَهُ بِأَرْحَامِهِمْ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى ثُمَامَةَ يُخَلِّي إِلَيْهِمْ حَمْلَ الطَّعَامِ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ثمامہ بن اثال حنفی کے اسلام کا واقعہ پیش آیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اللہ سے دعا فرمائی جس وقت آپ کے لیے کوئی واقعہ پیش آیا کہ اللہ آپ کو غلبہ عطا فرما دے اور وہ ابھی مشرک ہی تھا۔ آپ نے اس کے قتل کا ارادہ فرمایا اور ثمامہ حالت شرک میں عمرہ کی غرض سے مدینہ میں سے گزر رہا تھا کہ صحابہ نے پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے دربار میں پیش کر دیا۔ آپ کے حکم سے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”اے ثمامہ! کیا حال ہے؟ کیا اللہ نے تیرے اوپر غلبہ دے دیا ہے؟“ اس نے کہا: ”اے محمد! اگر تو مجھے قتل کر دے تو ایسے شخص کو قتل کرو گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ ﷺ معاف کریں گے تو معافی کا شکریہ ادا کیا جائے گا۔ اگر آپ ﷺ مال چاہتے ہیں تو مال بھی دیا جائے گا۔“ اسے اس حالت میں چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ چلے گئے۔ دوسرے دن پھر آئے اور پوچھا: ”تیرا کیا حال ہے ثمامہ!“ اس نے کہا: ”میرا حال اچھا ہے اے محمد! اگر مجھے قتل کر دیں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ معاف کر دیں تو معاف کرنے کا شکریہ ادا ہوگا۔ اگر مال طلب کرو تو دیا جائے گا۔“ رسول اللہ ﷺ پھر چلے گئے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مسکین بیٹھ کر ثمامہ کے خون کے بارے میں باتیں کر رہے تھے کہ اللہ کی قسم! ثمامہ کے خون کی بجائے اس کے مقابلے میں موٹے تازے اونٹ فدیہ میں زیادہ بہتر رہیں گے۔ پھر صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے اور پوچھا: ”ثمامہ کیا حال ہے؟“ اس نے کہا: ”میرا حال اچھا ہے اے محمد! اگر قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اگر آپ معاف کر دیں تو معاف کرنے کا شکریہ ادا ہوگا۔ اگر مال طلب کرو گے تو مال بھی دیا جائے گا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ثمامہ کو رہا کر دو۔ اے ثمامہ! میں نے تجھے معاف کر دیا۔“ پھر ثمامہ نے مدینہ کے کسی باغ میں غسل کر کے اپنے کپڑوں اور جسم کو پاک کیا اور واپس آیا تو رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ میں تشریف فرما تھے۔ اس نے کہا: ”اے محمد ﷺ! تیرے چہرے سے بڑھ کر کوئی چہرہ میرے نزدیک برا نہ تھا، آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین میرے لیے برا نہ تھا اور آپ کے شہر سے زیادہ برا کوئی شہر مجھے نہیں لگتا تھا۔“ پھر اس نے کہا: ”اب آپ کے چہرے سے بڑھ کر کوئی چہرہ محبوب نہیں، آپ کے دین سے بڑھ کر کوئی دین اچھا نہیں لگتا اور آپ کے شہر سے بڑھ کر کوئی شہر اچھا نہیں لگتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ کے رسول! میں اپنی قوم کے دین پر ہی عمرہ کے لیے نکلا تھا، آپ میرے عمرہ کے بارے میں خوشخبری دیں۔ اللہ آپ پر رحمت فرمائے۔“ آپ نے خوشخبری بھی دی اور طریقہ بھی سکھایا۔ وہ عمرہ کی غرض سے نکلے۔ جب وہ مکہ آئے تو قریشیوں نے ان سے آپ کے دین کے بارے میں سنا تو کہنے لگے کہ ثمامہ بے دین ہو گیا ہے۔ انہوں نے ثمامہ کو غصہ دلایا۔ ثمامہ کہنے لگے: ”میں بے دین نہیں ہوا، میں نے اسلام قبول کیا۔ محمد ﷺ کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لایا۔ اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ سے گندم کا ایک دانہ بھی نہ آئے گا (اور یمامہ سرسبز جگہ تھی) جب تک میں ہوں لیکن نبی ﷺ اجازت دے دیں۔“ وہ اپنے شہر واپس چلے گئے۔ جا کر مکہ کا غلہ روک دیا یہاں تک کہ قریش مشکل میں پڑ گئے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی رشتہ داریوں کا واسطہ دے کر سوال کیا کہ آپ ثمامہ کو خط لکھیں کہ وہ غلہ روانہ کر دے تو رسول اللہ ﷺ نے ثمامہ کو غلہ روانہ کرنے کا حکم صادر فرما دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18031
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»