حدیث نمبر: 18032
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: وَأَقْبَلَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَبْ لِي الزُّبَيْرَ الْيَهُودِيَّ أَجْزِيهِ، فَقَدْ كَانَتْ لَهُ عِنْدِي يَوْمَ بُعَاثٍ. فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَقْبَلَ ثَابِتٌ حَتَّى أَتَاهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَلْ تَعْرِفُنِي؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَهَلْ يُنْكِرُ الرَّجُلُ أَخَاهُ؟ قَالَ ثَابِتٌ: أَرَدْتُ أَنْ أَجْزِيَكَ الْيَوْمَ بِيَدٍ لَكَ عِنْدِي يَوْمَ بُعَاثٍ. قَالَ: فَافْعَلْ فَإِنَّ الْكَرِيمَ يَجْزِي الْكَرِيمَ. قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَهَبَكَ لِي. فَأَطْلَقَ عَنْهُ إِسَارَهُ. فَقَالَ الزُّبَيْرُ: لَيْسَ لِي قَائِدٌ وَقَدْ أَخَذْتُمُ امْرَأَتِي وَبَنِيَّ. فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: رَدَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَكَ وَبَنِيكَ. فَقَالَ الزُّبَيْرُ: حَائِطٌ لِي فِيهِ أَعْذُقٌ لَيْسَ لِي وَلَا لِأَهْلِي عَيْشٌ إِلَّا بِهِ. فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَهَبَ لَهُ، فَرَجَعَ ثَابِتٌ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ: قَدْ رَدَّ إِلَيْكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَكَ وَمَالَكَ فَأَسْلِمْ تَسْلَمْ. قَالَ: مَا فَعَلَ الْجَلِيسَانِ، وَذَكَرَ رِجَالَ قَوْمِهِ، قَالَ ثَابِتٌ: قَدْ قُتِلُوا وَفُرِغَ مِنْهُمْ، وَلَعَلَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يَكُونَ أَبْقَاكَ لَخَيْرٍ. قَالَ الزُّبَيْرُ: أَسْأَلُكَ بِاللهِ يَا ثَابِتُ وَبِيَدِي الْخَصِيمِ عِنْدَكَ يَوْمَ بُعَاثٍ إِلَّا أَلْحَقْتَنِي بِهِمْ، فَلَيْسَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ بَعْدَهُمْ. ⦗١١٤⦘ فَذَكَرَ ذَلِكَ ثَابِتٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِالزُّبَيْرِ فَقُتِلَ. " وَذَكَرَهُ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَذَكَرَ أَنَّهُ الزُّبَيْرُ بْنُ بَاطَا الْقُرَظِيُّ، وَذَكَرَهُ أَيْضًا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ يَوْمَئِذٍ كَبِيرًا أَعْمَى ".
حافظ ثناء اللہ

عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ مجھے زبیر یہودی ہبہ کر دیں تاکہ بعاث کے احسان کا بدلہ دیا جا سکے، جو اس نے میرے اوپر کیا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے ہبہ کر دیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ زبیر سے پوچھتے ہیں: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں! کیا کوئی شخص اپنے بھائی کو نہ پہچانے گا؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں تیرے بعاث کے دن کے احسان کا بدلہ دینا چاہتا ہوں۔ زبیر یہودی نے کہا: بدلہ دو، معزز انسان کسی معزز کا ہی بدلہ دیتا ہے۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے مجھے ہبہ فرما دیا تھا۔ میں نے اپنے اس قیدی کو آزاد کر دیا تو زبیر نے کہا: میری بیوی اور بچے؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہاری بیوی اور بچے بھی واپس کر دیے ہیں۔ زبیر کہنے لگا: میرا وہ باغ جس پر میرے گھر والوں کی گزر اوقات تھی؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے تو آپ ﷺ نے وہ بھی ہبہ کر دیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہارا اہل و عیال اور مال واپس کر دیا ہے، ”مسلمان ہو جاؤ، محفوظ ہو جاؤ گے۔“ تو زبیر نے کہا: میرے ان دو ساتھیوں کا کیا بنا؟ اس نے اپنی قوم کے اشخاص کا تذکرہ کیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کے قتل سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے، شاید کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھلائی کے لیے ہی باقی رکھا ہے، تو زبیر نے کہا: اے ثابت! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ تم میرے احسان کا بدلہ تب ہی ادا کر سکو گے جب مجھے بھی میرے ان ساتھیوں کے ساتھ ملا دو، کیونکہ ان کے بعد میری زندگی اچھی نہیں ہے، چنانچہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے عرض کیا تو زبیر کے قتل کا حکم دے دیا گیا۔ (ب) موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ ذکر کرتے ہیں کہ وہ اس دن بوڑھا اور نابینا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18032
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»