السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو بَكْرٍ ⦗١١٢⦘ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا نَحْوَ أَرْضِ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِيُّ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ " قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ، إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تُرِدِ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ "، فَقَالَ: عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ. فَرَدَّهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَرَدَّهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ ". فَخَرَجَ ثُمَامَةُ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، يَا مُحَمَّدُ وَاللهِ مَا كَانَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ وَجْهِكَ، وَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ إِلِيَّ، وَاللهِ مَا كَانَ دِينٌ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ دِينِكَ وَقَدْ أَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الْأَدْيَانِ إِلِيَّ، وَوَاللهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلِيَّ مِنْ بَلَدِكَ، وَقَدْ أَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبُلْدَانِ كُلِّهَا إِلِيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ لَهُ رِجَالٌ بِمَكَّةَ: أَصَبَوْتَ يَا ثُمَامَةُ؟ فَقَالَ: لَا، وَاللهِ مَا صَبَوْتُ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهِ لَا يَأْتِيكُمْ حَبَّةُ حِنْطَةٍ مِنَ الْيَمَامَةِ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول معظم ﷺ نے ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا، وہ دستہ ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر کے لایا جو یمامہ کے علاقے کا رئیس تھا، انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، رسول معظم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اس سے دریافت فرمایا: ”اے ثمامہ! تیرا کیا حال ہے؟“ اس نے جواب دیا: میرا حال اچھا ہے، اگر آپ مجھے قتل کر دیں تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا اور اگر آپ احسان کریں گے تو احسان کا شکریہ ادا ہو گا اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو طلب کریں جتنا چاہتے ہو مال مل جائے گا، رسول معظم ﷺ اس کو چھوڑ کر چلے گئے، جب دوسرا دن ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے حال دریافت فرمایا: ”ثمامہ! تمہارا کیا ذہن ہے؟“ اس نے جواب دیا: اگر آپ احسان کریں گے تو آپ ﷺ کے احسان کا شکریہ ادا کیا جائے گا، اگر آپ قتل کریں گے تو ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا، اگر آپ مال چاہتے ہیں تو جتنا مال چاہتے ہیں اتنا ہی دیا جائے گا، رسول اللہ ﷺ اسے پھر چھوڑ کر چلے گئے، جب تیسرا دن ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا تو اس نے وہی جواب دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ثمامہ کو کھول دو۔“ چنانچہ وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں گیا، غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوا اور اس نے اقرار کیا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔“ اے محمد ﷺ! اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی چہرہ ایسا نہ تھا جو مجھے آپ کے چہرے سے زیادہ برا لگتا ہو مگر اب آپ کا چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب لگتا ہے، اللہ کی قسم! آپ کے شہر سے زیادہ برا مجھے کوئی شہر نہیں لگتا تھا مگر اب مجھے آپ کا شہر تمام شہروں سے زیادہ اچھا لگتا ہے اور آپ کے لشکر نے مجھے اس وقت گرفتار کیا جب میں عمرہ ادا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، اب آپ کی کیا رائے ہے؟ رسول کریم ﷺ نے اسے خوشخبری دی اور فرمایا: ”جاؤ عمرہ ادا کرو۔“ جب وہ مکہ آیا تو کسی کہنے والے نے کہا: تو صابی ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ میں تو رسول اللہ ﷺ کے اسلام میں داخل ہو گیا ہوں، اللہ کی قسم! تمہارے پاس یمامہ کی گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آئے گا جب تک اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ اجازت نہ دیں گے۔