السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ أَبَا عَزَّةَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْجُمَحِيَّ، وَكَانَ شَاعِرًا، وَكَانَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ لِي خَمْسَ بَنَاتٍ لَيْسَ لَهُنَّ شَيْءٌ فَتَصَدَّقْ بِي عَلَيْهِنَّ، فَفَعَلَ، وَقَالَ أَبُو عَزَّةَ: أُعْطِيكَ مَوْثِقًا أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أُكْثِرَ عَلَيْكَ أَبَدًا، فَأَرْسَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أُحُدٍ جَاءَهُ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، فَقَالَ: اخْرُجْ مَعَنَا، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُ مُحَمَّدًا مَوْثِقًا أَنْ لَا أُقَاتِلَهُ، فَضَمِنَ صَفْوَانُ أَنْ يَجْعَلَ بَنَاتِهِ مَعَ بَنَاتِهِ إِنْ قُتِلَ، وَإِنْ عَاشَ أَعْطَاهُ مَالًا كَثِيرًا، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى خَرَجَ مَعَ قُرَيْشٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَأُسِرَ وَلَمْ يُؤْسَرْ غَيْرُهُ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّمَا أُخْرِجْتُ كَرْهًا وَلِي بَنَاتٌ فَامْنُنْ عَلَيَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ مَا أَعْطَيْتَنِي مِنَ الْعَهْدِ وَالْمِيثَاقِ؟ لَا، وَاللهِ لَا تَمْسَحُ عَارِضَيْكَ بِمَكَّةَ تَقُولُ: سَخِرْتُ بِمُحَمَّدٍ مَرَّتَيْنِ ". قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ، يَا عَاصِمُ بْنَ ثَابِتٍ قَدِّمْهُ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ ". فَقَدَّمَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " ثُمَّ أَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ الْحَنَفِيَّ بَعْدُ فَمَنَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ عَادَ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ بَعْدُ فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ ".سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدری قیدی ابو عزہ عبداللہ بن عمرو بن عمیر جمحی شاعر کو احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ میری پانچ بچیاں ہیں، ان کی وجہ سے میرے اوپر احسان کریں، تو آپ ﷺ نے احسان کر دیا۔ ابو عزہ نے کہا: نہ تو خود آپ ﷺ کے خلاف آؤں گا اور نہ ہی تعداد کو زیادہ کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔ جب قریشی غزوۂ احد کے لیے نکلے تو صفوان بن امیہ نے ابو عزہ سے نکلنے کا مطالبہ کر دیا، تو ابو عزہ نے کہا: میں نے محمد ﷺ سے نہ لڑنے کا پختہ عہد کیا ہوا ہے، تو صفوان بن امیہ نے اس کی بیٹیوں کی پرورش کا ذمہ لیا، اگر وہ قتل کر دیا گیا؛ اور اگر زندہ رہا تو اسے بہت زیادہ مال دیا جائے گا۔ پھر جب غزوۂ احد میں وہ قریشیوں کے ساتھ نکلا تو یہ اکیلا قیدی بنایا گیا، تو اس نے کہا: اے محمد ﷺ! مجھے زبردستی لایا گیا، آپ میرے اوپر بچیوں کی وجہ سے احسان کریں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا وہ وعدہ کہاں گیا؟ تو نے کہا کہ میں نے محمد ﷺ سے دو مرتبہ مذاق کیا ہے۔“
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مومن ایک بل سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا، اے عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ! اس کی گردن تن سے جدا کر دو“، تو انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو قیدی بنایا تو احسان کر کے چھوڑ دیا، تو ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا، پھر ان کا اسلام اچھا ہو گیا۔