السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَكَانَ الْمَمْنُونُ عَلَيْهِمْ بِلَا فِدْيَةٍ أَبَا عَزَّةَ الْجُمَحِيَّ، تَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنَاتِهِ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ عَهْدًا أَنْ لَا يُقَاتِلَهُ، فَأَخْفَرَهُ وَقَاتَلَهُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يُفْلِتَ، فَمَا أُسِرَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَجُلٌ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ امْنُنْ عَلَيَّ وَدَعْنِي لِبَنَاتِي وَأُعْطِيَكَ عَهْدًا أَنْ لَا أَعُودَ لِقِتَالِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَمْسَحُ عَلَى عَارِضَيْكَ بِمَكَّةَ تَقُولُ: قَدْ خَدَعْتُ مُحَمَّدًا مَرَّتَيْنِ ". فَأَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ عُنُقُهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ. " وَقَدْ رُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ غَيْرِ الشَّافِعِيِّ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ ".امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عزہ جمحی کو رسول اللہ ﷺ نے بغیر فدیہ کے احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا، (یہ) اس کی بیٹیوں کی وجہ سے (کیا) اور وعدہ لیا کہ آئندہ وہ آپ سے لڑائی نہ کرے گا، لیکن اس نے وعدہ خلافی کی اور احد کے دن آپ سے لڑائی کی، تو رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی کہ وہ بچ کر نہ نکلے، چنانچہ مشرکین میں سے اس کے علاوہ کوئی اور شخص قیدی نہ بنایا گیا، ابو عزہ جمحی نے کہا: اے محمد! مجھ پر احسان فرمائیں اور مجھے میری بیٹیوں کی خاطر چھوڑ دیں، میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ آئندہ آپ سے قتال کے لیے نہ آؤں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”(نہیں،) تم مکہ میں اپنے رخساروں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہ نہیں کہو گے کہ میں نے محمد ﷺ کو دو مرتبہ دھوکا دیا ہے“، پھر آپ ﷺ نے حکم فرمایا تو اس کی گردن تن سے جدا کر دی گئی۔