السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 18028
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " وَكَانَ الْمَمْنُونُ عَلَيْهِمْ بِلَا فِدْيَةٍ أَبَا عَزَّةَ الْجُمَحِيَّ، تَرَكَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنَاتِهِ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ عَهْدًا أَنْ لَا يُقَاتِلَهُ، فَأَخْفَرَهُ وَقَاتَلَهُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يُفْلِتَ، فَمَا أُسِرَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَجُلٌ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ امْنُنْ عَلَيَّ وَدَعْنِي لِبَنَاتِي وَأُعْطِيَكَ عَهْدًا أَنْ لَا أَعُودَ لِقِتَالِكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَمْسَحُ عَلَى عَارِضَيْكَ بِمَكَّةَ تَقُولُ: قَدْ خَدَعْتُ مُحَمَّدًا مَرَّتَيْنِ ". فَأَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ عُنُقُهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ فَذَكَرَهُ. " وَقَدْ رُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ غَيْرِ الشَّافِعِيِّ فِي كِتَابِ الْقَسْمِ ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عزہ جمحی کو رسول اللہ ﷺ نے بغیر فدیہ کے احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا، (یہ) اس کی بیٹیوں کی وجہ سے (کیا) اور وعدہ لیا کہ آئندہ وہ لڑائی کے لیے نہ آئے گا، لیکن اس نے وعدہ خلافی کی تو رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن اسے قتل کروا دیا، مشرکین کا کوئی اور شخص قیدی نہ تھا، ابو عزہ جمحی نے کہا: اے محمد! آپ میری بیٹیوں کی وجہ سے احسان فرمائیں، میں آئندہ قتال کے لیے نہ آؤں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مکہ جانے کے بہانے چاپلوسی مت کرو، پھر تم کہو گے: میں نے محمد ﷺ کو دو مرتبہ دھوکا دیا ہے“، پھر آپ ﷺ نے حکم فرمایا تو اس کی گردن تن سے جدا کر دی گئی۔