السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يفعله بذراري من ظهر عليه باب: امام جن لوگوں پر غالب آ جائے ان کی اولاد کے ساتھ کیا سلوک کرے۔
حدیث نمبر: 18020
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: " كُنْتُ فِيمَنْ حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ، وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ. قَالَ: فَجَاءُوا بِي، وَلَا أَرَانِي إِلَّا سَيَقْتُلُونَنِي فَكَشَفُوا عَانَتِي فَوَجَدُوهَا لَمْ تَنْبُتْ؛ فَجَعَلُونِي فِي السَّبْيِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے جن کے متعلق فیصلہ کیا تھا ان میں میں بھی شامل تھا، رسول اللہ ﷺ نے جنگجوؤں کے بارے میں قتل کا حکم دیا اور بچوں کو قیدی بنایا گیا، لوگ مجھے لائے اور وہ مجھے بھی قتل کرنے والے تھے، انہوں نے میرا ستر کھول کر دیکھا تو میرے زیرِ ناف بال نہیں نکلے تھے (میں بالغ نہیں ہوا تھا) تو انہوں نے مجھے قیدیوں میں رکھا۔