السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يفعله بذراري من ظهر عليه باب: امام جن لوگوں پر غالب آ جائے ان کی اولاد کے ساتھ کیا سلوک کرے۔
حدیث نمبر: 18019
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: " كُنْتُ فِيهِمْ، وَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ تُرِكَ، فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بھی بنی قریظہ میں سے تھا، جس کے زیرِ ناف بال تھے اس کو قتل کیا گیا اور جس کے بال نہ تھے اس کو چھوڑ دیا گیا۔ میں اس وقت بغیر بال کے تھا۔