حدیث نمبر: 18021
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " الْإِمَامُ فِيهِمْ بِالْخِيَارِ بَيْنَ أَنْ يَقْتُلَهُمْ إِنْ لَمْ يُسْلِمْ أَهْلُ الْأَوْثَانِ، أَوْ يُعْطِيَ الْجِزْيَةَ أَهْلُ الْكِتَابِ، أَوْ يَمُنَّ عَلَيْهِمْ، أَوْ يُفَادِيَهِمْ بِمَالٍ يَأْخُذُهُ مِنْهُمْ أَوْ بِأَسْرَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُطْلَقُونَ لَهُمْ، أَوْ يَسْتَرِقَّهُمْ فَإِنِ اسْتَرَقَّهُمْ أَوْ أَخَذَ مِنْهُمْ مَالًا فَسَبِيلُهُ سَبِيلُ الْغَنِيمَةِ، يُخْمَسُ وَيَكُونُ أَرْبَعَةُ أَخْمَاسِهَا لِأَهْلِ الْغَنِيمَةِ، فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ: كَيْفَ حَكَمْتَ فِي الْمَالِ وَالْوِلْدَانِ وَالنِّسَاءِ حُكْمًا وَاحِدًا، وَحَكَمْتَ فِي الرِّجَالِ أَحْكَامًا مُتَفَرِّقَةً؟ قِيَلَ: ظَهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قُرَيْظَةَ وَخَيْبَرَ، فَقَسَمَ عَقَارَهَا مِنَ الْأَرَضِينَ وَالنَّخْلِ قِسْمَةَ الْأَمْوَالِ، وَسَبَى وِلْدَانَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهَوَازِنَ وَنِسَاءَهُمْ، فَقَسَمَهُمْ قِسْمَةَ الْأَمْوَالِ ". قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا مَا قَالَ فِي قُرَيْظَةَ فَفِيمَا ".
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”امام کو ان (جنگی قیدیوں) کے بارے میں اختیار ہے کہ اگر بت پرست اسلام نہ لائیں اور اہل کتاب جزیہ نہ دیں تو انہیں قتل کر دے، یا ان پر احسان کرتے ہوئے (بلا معاوضہ) چھوڑ دے، یا ان سے فدیہ لے، خواہ وہ مال ہو جو ان سے وصول کرے یا مسلمان قیدی ہوں جو ان کے بدلے چھڑائے جائیں، یا انہیں غلام بنا لے، پس اگر وہ انہیں غلام بنا لے یا ان سے مال لے لے تو اس کا حکم مال غنیمت کا حکم ہے، اس کا خمس (پانچواں حصہ) نکالا جائے گا اور اس کے باقی چار حصے غنیمت کے حقداروں کے ہوں گے۔ پس اگر کوئی کہنے والا کہے: آپ نے مال، بچوں اور عورتوں کے بارے میں تو ایک ہی حکم لگایا ہے اور مردوں کے بارے میں مختلف احکام لگائے ہیں، ایسا کیوں؟ تو (اس سے) کہا جائے گا: رسول اللہ ﷺ بنو قریظہ اور خیبر پر غالب آئے تو آپ ﷺ نے ان کی غیر منقولہ جائیداد یعنی زمینوں اور کھجور کے باغات کو اموال کی طرح تقسیم فرمایا، اور آپ ﷺ نے بنو المصطلق اور ہوازن کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنایا تو انہیں بھی اموال کی طرح تقسیم فرما دیا۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رہا وہ جو انہوں نے بنو قریظہ کے بارے میں فرمایا، تو وہ اس (روایت) میں ہے جو...

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ " يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ، وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنْ عَلَيْهِمْ، حَتَّى حَاربَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ، وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلَادَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا، وَأَجْلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودَ الْمَدِينَةِ بَنِي قَيْنُقَاعَ، وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللهِ - يَعْنِي ابْنَ سَلَامٍ - وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ، وَكُلَّ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ،.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہود نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لڑائی کی، آپ ﷺ نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا اور قریظہ والوں کو برقرار رکھا اور ان پر احسان کیا، اس کے بعد بنو قریظہ نے بھی لڑائی کی، آپ ﷺ نے ان کے مردوں کو قتل کیا اور عورتوں، بچوں اور مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور ان کو چھوڑ دیا جو رسول اللہ ﷺ سے مل گئے، آپ ﷺ نے ان کو امن دیا تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا، آپ ﷺ نے مدینہ کے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا، ان میں بنو قینقاع جو کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم کے لوگ تھے اور بنو حارثہ کے یہود تھے، اور ہر یہودی جو مدینہ میں تھا اس کو جلا وطن کر دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18021
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»