السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: رواية من روى النهي عن الأذان قبل الوقت باب: وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت نقل کرنے والے کی روایت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ ثنا أَيُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ ثنا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ثنا نَافِعٌ عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ ذَكَرَ نَحْوَهُ يَعْنِي نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ أَوْ غَيْرُهُ، وَرَوَاهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ لِعُمَرَ مُؤَذِّنٌ يُقَالُ لَهُ: مَسْعُودٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ ذَاكَ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ أَصَحُّ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: عَجِّلُوا الْأَذَانَ بِالصُّبْحِ يُدْلِجُ الْمُدْلِجُ وَيَخْرُجُ الْعَامِرَةُ.(الف) نافع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مؤذن سے نقل فرماتے ہیں، جس کو مسروح کہا جاتا تھا، اس نے صبح سے پہلے اذان دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو حکم دیا۔۔۔ آگے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح حدیث بیان کی۔
(ب) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صبح کی اذان جلدی دو تاکہ داخل ہونے والا داخل ہو جائے اور گھر میں رہنے والا اٹھ پڑے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حماد بن زید نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مقرر کردہ مؤذن تھا جس کا نام مسروح یا اس کے علاوہ اور کوئی تھا۔
(ج) دراوردی نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے اور وہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مؤذن تھا، اس کا نام مسعود تھا۔ انہوں نے بھی پچھلی روایت کی طرح بیان کیا ہے۔
(د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔