حدیث نمبر: 1800
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَرَّازُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خَالِدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ بِلَيْلٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ " قَالَ: اسْتَيْقَظْتُ وَأَنَا وَسْنَانُ فَظَنَنْتُ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ طَلَعَ فَأَذَّنْتُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَادِيَ فِي الْمَدِينَةِ ثَلَاثًا: " إِنَّ الْعَبْدَ رَقَدَ " ثُمَّ أَقْعَدَهُ إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ قَالَ: " قُمِ الْآنَ " ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ " وَرَوَاهُ أَيْضًا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ مَوْصُولًا مُخْتَصَرًا وَهُوَ وَهْمٌ وَالصَّوَابُ رِوَايَةُ شُعَيْبِ بْنِ حَرْبٍ..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رات کو اذان دی، انہیں نبی ﷺ نے فرمایا: ”آپ کو اس (اذان) پر کس نے ابھارا تھا؟“ انہوں نے کہا: میں اور وسنان بیدار ہوئے، میں نے گمان کیا کہ فجر طلوع ہو چکی ہے، میں نے اذان دے دی۔ انہیں نبی ﷺ نے حکم دیا کہ مدینہ میں تین مرتبہ اعلان کرے کہ ”بندہ سو گیا تھا،“ پھر ”اپنے پہلو کی جانب بیٹھ جا، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے،“ پھر فرمایا: ”اب کھڑا ہو،“ فرماتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے فجر کی دو رکعتیں پڑھیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1800
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»