حدیث نمبر: 1802
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْإِمَامُ ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ثنا سُفْيَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ شَدَّادٍ مَوْلَى عِيَاضٍ قَالَ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَسَحَّرُ فَقَالَ: " لَا تُؤَذِّنُ حَتَّى تَرَى الْفَجْرَ " ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ: " لَا تُؤَذِّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ " ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ: " لَا تُؤَذِّنُ حَتَّى تَرَى الْفَجْرَ هَكَذَا " وَجَمَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَهَذَا مُرْسَلٌ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: شَدَّادٌ مَوْلَى عِيَاضٍ لَمْ يَذْكُرْ بِلَالًا وَأَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ قَدْ بَيَّنَّا ضَعْفَهَا فِي كِتَابِ الْخِلَافِ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ مُرْسَلًا مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ

شداد، جو عیاض کا غلام تھا، کہتا ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ سحری کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اذان نہ دے یہاں تک کہ فجر دیکھ لے۔“ پھر اگلے دن آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اذان نہ دے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجائے۔“ پھر اگلے دن آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اذان نہ دے یہاں تک کہ تو فجر دیکھ لے۔“ اس طرح اور اپنے ہاتھوں کو جمع کیا پھر ان دونوں کو جدا کردیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عیاض کے آزاد کردہ غلام شداد کی ملاقات سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔ یہ حدیث ابو علی روزباری نے ابوبکر بن داسہ کے واسطے سے ابوداؤد سے نقل کی ہے۔
شیخ کہتے ہیں: اسے بعض دوسری اسناد سے بھی نقل کیا گیا ہے جو تمام ضعیف ہیں، ہم نے ان کا ضعف کتاب الخلاف میں بیان کیا ہے۔ حمید بن ہلال وغیرہ کی حدیث مرسل ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1802
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه أبو داؤد 534»