السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: رواية من روى النهي عن الأذان قبل الوقت باب: وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت نقل کرنے والے کی روایت کا بیان
حدیث نمبر: 1799
وَأَخْبَرَنَا عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ⦗٥٦٤⦘ بَكْرٍ الْمُطَرِّزُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ " شَاذٌّ غَيْرُ وَاقِعٍ عَلَى الْقَلْبِ وَهُوَ خِلَافُ مَا رَوَاهُ النَّاسُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: أَذَّنَ بِلَالٌ مَرَّةً بِلَيْلٍ فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ مَوْصُولًا وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يَصِحُّ.حافظ ثناء اللہ
(الف) محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: حماد بن سلمہ کی حدیث عن ایوب عن نافع عن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہ بلال رضی اللہ عنہ نے طلوع فجر سے پہلے اذان دی، شاذ ہے، دل اسے قبول نہیں کرتا، یہ اس روایت کے خلاف ہے جسے لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں۔
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ معمر بن راشد نے ایوب سے روایت کیا ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رات کو اذان کہی، پھر انہوں نے مرسل روایت بیان کی، عبدالعزیز بن ابو رواد عن نافع موصول روایت ہے اور ضعیف ہے، صحیح نہیں۔