السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القدر الذي كان بين أذان بلال وابن أم مكتوم ورواية من قدم أذان ابن أم مكتوم على أذان بلال باب: حضرت بلال اور حضرت ابن ام مکتوم کی اذانوں کے درمیانی وقفے کی مقدار اور اس شخص کی روایت کا بیان جس نے حضرت ابن ام مکتوم کی اذان کو حضرت بلال کی اذان پر مقدم کیا
حدیث نمبر: 1796
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْحَاكِمِ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ثنا الْحُمَيْدِيُّ، أنا سُفْيَانُ ثنا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ حَبَّانَ بْنَ الْحَارِثِ، يَقُولُ: أَتَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ مُعَسْكِرٌ بِدَيْرِ أَبِي مُوسَى فَوَجَدْتُهُ يَطْعَمُ فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ فَقُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ فَقَالَ: " وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ لِابْنِ التَّيَّاحِ: " أَقِمِ الصَّلَاةَ ".حافظ ثناء اللہ
حبان بن حارث کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ ابو موسیٰ کے کنویں کے پاس لشکر میں تھے، میں نے انہیں کھانا کھاتے ہوئے پایا تو انہوں نے کہا: قریب ہو جاؤ اور کھاؤ، میں نے کہا: میں نے روزے کا ارادہ کیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے بھی روزے کا ارادہ کیا تھا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ابن نباح سے کہا: نماز کی اقامت کہو۔