السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: رواية من روى النهي عن الأذان قبل الوقت باب: وقت سے پہلے اذان دینے کی ممانعت نقل کرنے والے کی روایت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدِ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا أَبُو مُسْلِمٍ ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، نا مُوسَى ثنا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِيَ: " أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ، أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ثَلَاثًا " زَادَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ فِي حَدِيثِهِ فَرَجَعَ فَنَادَى: أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ، هَذَا حَدِيثٌ تَفَرَّدَ بِوَصْلِهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ وَرُوِي أَيْضًا عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَرْبِيٍّ، عَنْ أَيُّوبَ إِلَّا أَنَّ سَعِيدًا ضَعِيفٌ وَرِوَايَةُ حَمَّادٍ مُنْفَرِدَةٌ وَحَدِيثُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَصَحُّ مِنْهَا وَمَعَهُ رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ.(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے فجر طلوع ہونے سے پہلے اذان دی، انہیں نبی ﷺ نے حکم دیا کہ واپس لوٹ کر اعلان کریں: ”خبردار! بندہ سویا ہوا تھا، خبردار! بندہ سویا ہوا تھا“، تین بار کہا۔ (ب) موسیٰ بن اسماعیل کی حدیث میں ہے کہ: ”خبردار! بندہ سویا ہوا تھا“۔ اس حدیث میں ایوب سے موصولاً بیان کرنے میں حماد بن سلمہ متفرد ہیں۔
یہ سعید بن زربی عن ایوب سے بھی مروی ہے، مگر سعید ضعیف ہے، اور حماد کی روایت منفرد ہے، اور عبید اللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے، اور اس کے ساتھ زہری عن سالم عن ابیہ کی روایت بھی ہے۔