کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: حضرت بلال اور حضرت ابن ام مکتوم کی اذانوں کے درمیانی وقفے کی مقدار اور اس شخص کی روایت کا بیان جس نے حضرت ابن ام مکتوم کی اذان کو حضرت بلال کی اذان پر مقدم کیا
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ثنا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي وَكَانَتْ قَدْ حَجَّتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " أَوْ قَالَ: " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلَالٌ " قَالَتْ: وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا وَيَنْزِلُ هَذَا فَكُنَّا نَتَعَلَّقُ بِهِ فَنَقُولُ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ قَالَ: فَإِنْ صَحَّ رِوَايَةُ أَبِي عَمْرٍو وَغَيْرُهُ فَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ وَبَيْنَ بِلَالٍ نُوَبٌ فَكَانَ بِلَالٌ إِذَا كَانَتْ نَوْبَتُهُ أَذَّنَ بِلَيْلٍ وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ إِذَا كَانَتْ نَوْبَتُهُ أَذَّنَ بِلَيْلٍ وَهَذَا جَائِزٌ صَحِيحٌ وَإِنْ لَمْ يَصِحَّ فَقَدْ صَحَّ خَبَرُ ابْنِ عَمْرِو بْنِ مَسْعُودٍ وَسَمُرَةَ وَعَائِشَةَ أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ تَقْدِيمُ أَذَانِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ.
حافظ ثناء اللہ
خبیب بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے اپنی چچی انیسہ رضی اللہ عنہا سے سنا، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا تھا، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ رات کی اذان دیتا ہے، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے۔“ یا فرمایا: ”ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رات کی اذان دیتے ہیں، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دے۔“ انہوں نے کہا: یہ چڑھتا تھا اور وہ اترتا تھا، ہم اس کے ساتھ چمٹ جاتے اور کہتے: ”اپنی جگہ ٹھہرے رہو یہاں تک کہ ہم سحری کر لیں۔“
ابوبکر بن اسحاق فقیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر ابو عمر وغیرہ کی روایات صحیح ہوں تو جائز ہے کہ سیدنا ابن ام مکتوم اور بلال رضی اللہ عنہما کے درمیان باری طے ہو، جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی باری ہوتی تو وہ رات کو اذان کہتے اور اگر سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی باری ہوتی تو وہ رات کو اذان کہتے۔
یہ جائز اور درست ہے، اور اگر یہ صحیح نہ ہو تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابن مسعود، سمرہ رضی اللہ عنہم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت صحیح ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے تھے۔
شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عروہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان کا پہلے ہونا مروی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1793
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْمَدَنِيُّ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلٌ أَعْمَى فَإِذَا أَذَّنَ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلَالٌ " قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ بِلَالٌ يُبْصِرُ الْفَجْرَ. قَالَ هِشَامٌ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: غَلَطَ ابْنُ عُمَرَ، كَذَا رُوِيَ بِإِسْنَادِهِ وَحَدِيثُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَصَحُّ وَرَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ - وَلَيْسَ بِحُجَّةٍ - بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم نابینا آدمی ہے، جب وہ اذان دے تو کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دیدے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بلال رضی اللہ عنہ فجر کو دیکھ لیتے تھے۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات درست نہیں۔
عبید اللہ بن عمر عن قاسم بن محمد عن عائشہ کی حدیث زیادہ صحیح ہے، اور واقدی نے، جو حجت نہیں ہے، اسے اپنی سند سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1794
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة 406»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى وَأَبُو صَادِقٍ ⦗٥٦٣⦘ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلَالٌ " ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم رات کی اذان دیتا ہے، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1795
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْحَاكِمِ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ثنا الْحُمَيْدِيُّ، أنا سُفْيَانُ ثنا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ حَبَّانَ بْنَ الْحَارِثِ، يَقُولُ: أَتَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ مُعَسْكِرٌ بِدَيْرِ أَبِي مُوسَى فَوَجَدْتُهُ يَطْعَمُ فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ فَقُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ فَقَالَ: " وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ لِابْنِ التَّيَّاحِ: " أَقِمِ الصَّلَاةَ ".
حافظ ثناء اللہ
حبان بن حارث کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ دیر ابی موسیٰ میں لشکر کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے، میں نے انہیں کھانا کھاتے ہوئے پایا تو انہوں نے کہا: قریب ہو جاؤ اور کھاؤ، میں نے کہا: میں نے روزے کا ارادہ کیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے بھی روزے کا ارادہ کیا تھا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ابن نباح سے کہا: نماز کی اقامت کہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1796
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه عبد الرزاق 7609»