السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: القدر الذي كان بين أذان بلال وابن أم مكتوم ورواية من قدم أذان ابن أم مكتوم على أذان بلال باب: حضرت بلال اور حضرت ابن ام مکتوم کی اذانوں کے درمیانی وقفے کی مقدار اور اس شخص کی روایت کا بیان جس نے حضرت ابن ام مکتوم کی اذان کو حضرت بلال کی اذان پر مقدم کیا
حدیث نمبر: 1794
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْمَدَنِيُّ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلٌ أَعْمَى فَإِذَا أَذَّنَ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلَالٌ " قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ بِلَالٌ يُبْصِرُ الْفَجْرَ. قَالَ هِشَامٌ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: غَلَطَ ابْنُ عُمَرَ، كَذَا رُوِيَ بِإِسْنَادِهِ وَحَدِيثُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَصَحُّ وَرَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ - وَلَيْسَ بِحُجَّةٍ - بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم نابینا آدمی ہے، جب وہ اذان دے تو کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دیدے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بلال رضی اللہ عنہ فجر کو روشن کرتے تھے۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات درست نہیں۔