❮
❯
حدیث نمبر: 1793
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ثنا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّتِي وَكَانَتْ قَدْ حَجَّتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ " أَوْ قَالَ: " إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلَالٌ " قَالَتْ: وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا وَيَنْزِلُ هَذَا فَكُنَّا نَتَعَلَّقُ بِهِ فَنَقُولُ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ قَالَ: فَإِنْ صَحَّ رِوَايَةُ أَبِي عَمْرٍو وَغَيْرُهُ فَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ وَبَيْنَ بِلَالٍ نُوَبٌ فَكَانَ بِلَالٌ إِذَا كَانَتْ نَوْبَتُهُ أَذَّنَ بِلَيْلٍ وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ إِذَا كَانَتْ نَوْبَتُهُ أَذَّنَ بِلَيْلٍ وَهَذَا جَائِزٌ صَحِيحٌ وَإِنْ لَمْ يَصِحَّ فَقَدْ صَحَّ خَبَرُ ابْنِ عَمْرِو بْنِ مَسْعُودٍ وَسَمُرَةَ وَعَائِشَةَ أَنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ تَقْدِيمُ أَذَانِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ.
حافظ ثناء اللہ

خبیب بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے اپنی چچی انیسہ رضی اللہ عنہا سے سنا، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا تھا، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ رات کی اذان دیتا ہے، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے۔“ یا فرمایا: ”ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رات کی اذان دیتے ہیں، پس تم کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان دے۔“ انہوں نے کہا: یہ چڑھتا تھا اور وہ اترتا تھا، ہم اس کے ساتھ چمٹ جاتے اور کہتے: ”اپنی جگہ ٹھہرے رہو یہاں تک کہ ہم سحری کر لیں۔“
ابوبکر بن اسحاق فقیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر ابو عمر وغیرہ کی روایات صحیح ہوں تو جائز ہے کہ سیدنا ابن ام مکتوم اور بلال رضی اللہ عنہما کے درمیان باری طے ہو، جب سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی باری ہوتی تو وہ رات کو اذان کہتے اور اگر سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی باری ہوتی تو وہ رات کو اذان کہتے۔
یہ جائز اور درست ہے، اور اگر یہ صحیح نہ ہو تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابن مسعود، سمرہ رضی اللہ عنہم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت صحیح ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے تھے۔
شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عروہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان کا پہلے ہونا مروی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1793
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»