السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ السِّوَاكِ بِالْأَصَابِعِ باب: انگلیوں کے ساتھ مسواک کرنا
حدیث نمبر: 179
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي بَعْضُ أَهْلِ بَيْتِي، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ رَغَّبْتَنَا فِي السِّوَاكِ فَهَلْ دُونَ ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ؟ قَالَ: " أُصْبُعَاكَ سِوَاكٌ عِنْدَ وُضُوئِكَ تُمِرُّهُمَا عَلَى أَسْنَانِكَ، إِنَّهُ لَا عَمَلَ لِمَنْ لَا نِيَّةَ لَهُ، وَلَا أَجْرَ لِمَنْ لَا حِسْبَةَ لَهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص جو بنی عمرو بن عوف کے قبیلے کا تھا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ آپ نے ہمیں مسواک کی بڑی ترغیب دلائی ہے، کیا اس کا بدل کوئی اور چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری انگلیاں وضو کے وقت مسواک ہیں، ان دونوں کو اپنے دانتوں پر ملو، بیشک اس شخص کا کوئی عمل (قبول) نہیں جس کی نیت نہیں اور اس کے لیے کوئی اجر نہیں جو اللہ تعالیٰ سے اجر کی توقع نہ رکھے۔“