السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في كراهية أخذ الجعائل، وما جاء في الرخصة فيه من السلطان باب: جہاد میں اجرت اور عوضانہ لینے کی کراہت اور حکمران کی طرف سے اس کی اجازت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 17839
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْأَعْجَمِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ الْجُعَلِ، قَالَ: " إِذَا جَعَلْتَهُ فِي سِلَاحٍ أَوْ كُرَاعٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَإِذَا جَعَلْتَهُ فِي الرَّقِيقِ فَلَا ". وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " كَانُوا أَنْ يُعْطُوا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَنْ يَأْخُذُوا. يَعْنِي فِي الْجَعَائِلِ.حافظ ثناء اللہ
عبید بن اعجم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اجرت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: جب ہتھیار اور گھوڑوں کے سلسلہ میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جب غلاموں پر اجرت ہو تو نہ لے۔
ابراہیم نخعی فرماتے ہیں: ان کو یہ پسند تھا کہ ان کو دیا جائے اس کے بدلہ میں کہ وہ خود لیں، یعنی اجرت۔