کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جہاد میں اجرت اور عوضانہ لینے کی کراہت اور حکمران کی طرف سے اس کی اجازت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 17837
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْمَعْنَى، وَأَنَا لِحَدِيثِهِ أَتْقَنُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنِ ابْنِ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سَيُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الْأَمْصَارُ، وَسَتَكُونُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ يُقْطَعُ عَلَيْكُمْ فِيهَا بُعُوثٌ، يَتَكَرَّهُ الرَّجُلُ مِنْكُمُ الْبَعْثَ فِيهَا، فَيَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِهِ، ثُمَّ يَتَصَفَّحُ الْقَبَائِلَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَيْهِمْ، يَقُولُ: مَنْ أَكْفِيهِ بَعَثَ كَذَا؟ مَنْ أَكْفِيهِ بَعَثَ كَذَا؟ أَلَا وَذَلِكَ الْأَجِيرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب تم پر ایسا زمانہ آنے والا ہے جب تم اکٹھے کیے ہوئے لشکروں میں ہو گے اور تم پر ان لشکروں کو (باری باری) روک دیا جائے گا، اس زمانے میں ایک انسان ان میں جانا ناپسند کرے گا اور اپنی قوم سے بچے گا، پھر وہ قبائل کو دیکھے گا اور خود کو ان پر پیش کرتے ہوئے کہے گا: کون ہے جس کی طرف سے میں فلاں لشکر کے سلسلے میں کفایت کروں؟ کون ہے جس کی طرف سے میں فلاں لشکر کے بارے میں کافی ہو جاؤں؟ خبردار! یہ اپنے خون کے آخری قطرے تک مزدور (اجرت پر لڑنے والا) ہے۔“
حدیث نمبر: 17838
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ الْعَيْزَارِ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: " سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْجَعَائِلِ، فَقَالَ: لَمْ أَكُنْ لِأَرْتَشِيَ إِلَّا مَا رَشَانِي اللهُ. وَسَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ: تَرْكُهَا أَفْضَلُ، فَإِنْ أَخَذْتَهَا فَأَنْفِقْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت شقیق بن عیزار فرماتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: میں اجرت نہیں لیتا مگر جو اجرت مجھے میرا رب دے۔ حضرت شقیق فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اسے چھوڑنا افضل ہے، اگر تو لیتا ہے تو فی سبیل اللہ خرچ کر دے۔
حدیث نمبر: 17839
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْأَعْجَمِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ الْجُعَلِ، قَالَ: " إِذَا جَعَلْتَهُ فِي سِلَاحٍ أَوْ كُرَاعٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَإِذَا جَعَلْتَهُ فِي الرَّقِيقِ فَلَا ". وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " كَانُوا أَنْ يُعْطُوا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَنْ يَأْخُذُوا. يَعْنِي فِي الْجَعَائِلِ.
حافظ ثناء اللہ
عبید بن اعجم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اجرت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: جب ہتھیار اور گھوڑوں کے سلسلہ میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جب غلاموں پر اجرت ہو تو نہ لے۔
ابراہیم نخعی فرماتے ہیں: ان کو یہ پسند تھا کہ ان کو دیا جائے اس کے بدلہ میں کہ وہ خود لیں، یعنی اجرت۔
ابراہیم نخعی فرماتے ہیں: ان کو یہ پسند تھا کہ ان کو دیا جائے اس کے بدلہ میں کہ وہ خود لیں، یعنی اجرت۔
حدیث نمبر: 17840
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ⦗٤٨⦘ عَيَّاشٍ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ حُدَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نَفِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الَّذِينَ يَغْزُونَ مِنْ أُمَّتِي وَيَأْخُذُونَ الْجُعْلَ يَتَقَوَّوْنَ عَلَى عَدُوِّهِمْ مَثَلُ أُمِّ مُوسَى تُرْضِعُ وَلَدَهَا وَتَأْخُذُ أَجْرَهَا ". أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت جبیر بن نفیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے جو لوگ لڑائی پر اجرت لیتے ہیں اور اس سے دشمن کے خلاف قوت حاصل کرتے ہیں، ان کی مثال موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرح ہے، وہ اپنے بیٹے کو دودھ پلاتی تھیں اور اجرت لیتی تھیں۔“