السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في كراهية أخذ الجعائل، وما جاء في الرخصة فيه من السلطان باب: جہاد میں اجرت اور عوضانہ لینے کی کراہت اور حکمران کی طرف سے اس کی اجازت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 17838
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ الْعَيْزَارِ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: " سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْجَعَائِلِ، فَقَالَ: لَمْ أَكُنْ لِأَرْتَشِيَ إِلَّا مَا رَشَانِي اللهُ. وَسَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ: تَرْكُهَا أَفْضَلُ، فَإِنْ أَخَذْتَهَا فَأَنْفِقْهَا فِي سَبِيلِ اللهِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت شقیق بن عیزار فرماتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: میں اجرت نہیں لیتا مگر جو اجرت مجھے میرا رب دے۔ حضرت شقیق فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اسے چھوڑنا افضل ہے، اگر تو لیتا ہے تو فی سبیل اللہ خرچ کر دے۔