السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في كراهية أخذ الجعائل، وما جاء في الرخصة فيه من السلطان باب: جہاد میں اجرت اور عوضانہ لینے کی کراہت اور حکمران کی طرف سے اس کی اجازت کے متعلق کیا مروی ہے۔
حدیث نمبر: 17840
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ⦗٤٨⦘ عَيَّاشٍ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ حُدَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نَفِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الَّذِينَ يَغْزُونَ مِنْ أُمَّتِي وَيَأْخُذُونَ الْجُعْلَ يَتَقَوَّوْنَ عَلَى عَدُوِّهِمْ مَثَلُ أُمِّ مُوسَى تُرْضِعُ وَلَدَهَا وَتَأْخُذُ أَجْرَهَا ". أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت جبیر بن نفیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے جو لوگ لڑائی پر اجرت لیتے ہیں اور اس سے دشمن کے خلاف قوت حاصل کرتے ہیں، ان کی مثال موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرح ہے، وہ اپنے بیٹے کو دودھ پلاتی تھیں اور اجرت لیتی تھیں۔“