السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرجل يكون له أبوان مسلمان أو أحدهما فلا يغزو إلا بإذن أهله باب: اس شخص کے بیان میں جس کے مسلمان والدین یا ان میں سے کوئی ایک حیات ہو تو وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد پر نہ جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ. بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَرْبَعِ آيَاتٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ اللهُ بِبِرِّ الْوَالِدَةِ؟ فَوَاللهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى تَكْفُرَ أَوْ أَمُوتَ. فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا أَوْ يَسْقُوهَا شَجَرُوا فَاهَا بِعَصًا، ثُمَّ أَوْجَرُوهَا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ، فَنَزَلَتْ: {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا} [العنكبوت: ٨]. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چار آیات میرے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ پھر حدیث کو ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ ام سعد نے کہا: ”کیا اللہ نے والدہ کے ساتھ احسان کا حکم نہیں دیا؟ اللہ کی قسم! میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی حتیٰ کہ تو کفر کرے یا میں مر جاؤں۔“ جب وہ اس کو کھلانا یا پلانا چاہے تو لاٹھی سے اس کا منہ اٹھاتے اور کھانا اور پانی اس کے منہ میں ڈال دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا﴾ [سورة العنكبوت: 8] ”اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کی تاکید کی ہے اور اگر وہ تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی نہ مان۔“