السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المسلم يتوقى في الحرب قتل أبيه، ولو قتله لم يكن به بأس باب: مسلمان دورانِ جنگ اپنے مشرک باپ کو قتل کرنے سے بچے گا البتہ اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 17834
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ، أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مُرْنِي بِمَا أَحْبَبْتَ وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا. قَالَ: فَعَجِبَ لِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ، فَقَالَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ: " فَاقْتُلْ أَبَاكَ ". قَالَ: فَخَرَجَ مُوَلِّيًا لِيَفْعَلَ، فَدَعَاهُ، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لِقَطِيعَةِ رَحِمٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ جب نبی ﷺ سے ملے تو آپ ﷺ سے عرض کیا: ”جو آپ پسند کریں مجھے حکم دیں، میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔“ نبی ﷺ نے اس پر تعجب کیا اور وہ ابھی چھوٹے تھے، آپ ﷺ نے ان کو فرمایا: ”اپنے باپ کو قتل کر!“ جب وہ واپس ہوا تاکہ اس پر عمل کرے تو آپ ﷺ نے اس کو بلایا اور فرمایا: ”مجھے رشتے توڑنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔“