کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے بیان میں جس کے مسلمان والدین یا ان میں سے کوئی ایک حیات ہو تو وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد پر نہ جائے۔
حدیث نمبر: 17827
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ، وَكَانَ لَا يُتَّهَمُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَهُ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَيٌّ وَالِدَاكَ "؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور جہاد کی اجازت مانگنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بس انہیں میں جہاد کر۔“
حدیث نمبر: 17828
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ الْجِهَادَ. قَالَ: " أَحَيٌّ أَبَوَاكَ؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَإِنَّ فِيهِمَا الْمُجَاهِدَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں۔ نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی طرف جا، ان دونوں میں جہاد کا مقام ہے۔“
حدیث نمبر: 17829
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ⦗٤٥⦘ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ نَاعِمًا مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَه، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ أَوِ الْجِهَادِ أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ. قَالَ: " فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟ ". قَالَ: نَعَمْ، بَلْ كِلَاهُمَا. قَالَ: " فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی ﷺ کی طرف آیا اور کہنے لگا: میں ہجرت یا جہاد پر آپ کی بیعت کرتا ہوں اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر کی امید کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟“ اس نے کہا: ہاں! دونوں زندہ ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ہاں! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی طرف لوٹ جا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کر۔“
حدیث نمبر: 17830
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ. فَقَالَ: " ارْجِعْ فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ”میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنے آیا ہوں اور اپنے والدین کو روتے ہوئے چھوڑ کر آیا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”واپس جا اور ان کو خوش کر جس طرح ان کو رلایا ہے۔“
حدیث نمبر: 17831
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي هَاجَرْتُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ هَجَرْتَ الشِّرْكَ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ، هَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ؟ ". قَالَ: أَبَوَايَ. قَالَ: " أَذِنَا لَكَ؟ ". قَالَ: لَا. قَالَ: " فَارْجِعْ فَاسْتَأْذِنْهُمَا، فَإِنْ أَذِنَا لَكَ فَجَاهِدْ، وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمن سے ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنا وطن چھوڑ دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے شرک کو چھوڑ دیا اور جہاد کیا۔ یمن میں کوئی تیرا رشتہ دار ہے؟“ اس نے عرض کیا: میرے والدین۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان سے اجازت لی ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”واپس جا اور ان سے اجازت طلب کر۔ اگر وہ اجازت دیں تو جہاد کر وگرنہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کر۔“
حدیث نمبر: 17832
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا حَجَّاجٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السُّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ. فَقَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " فَالزَمْهَا؛ فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلَيْهَا ". ثُمَّ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ فِي مَقَاعِدَ شَتَّى فَكَمِثْلِ هَذَا الْقَوْلِ. لَفْظُ حَدِيثِ الصَّغَانِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن جاہمہ سلمی فرماتے ہیں کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے محاذِ جنگ پر جانے کا ارادہ کیا ہے اور آپ کے پاس مشورہ کرنے آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیری ماں زندہ ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں! فرمایا: ”اسی سے وابستہ رہ، جنت اس کے قدموں میں ہے۔“ آپ ﷺ نے یہ دو تین دفعہ کہا۔
حدیث نمبر: 17833
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ. بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَرْبَعِ آيَاتٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ اللهُ بِبِرِّ الْوَالِدَةِ؟ فَوَاللهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى تَكْفُرَ أَوْ أَمُوتَ. فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا أَوْ يَسْقُوهَا شَجَرُوا فَاهَا بِعَصًا، ثُمَّ أَوْجَرُوهَا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ، فَنَزَلَتْ: {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا} [العنكبوت: ٨]. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چار آیات میرے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ پھر حدیث کو ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ ام سعد نے کہا: ”کیا اللہ نے والدہ کے ساتھ احسان کا حکم نہیں دیا؟ اللہ کی قسم! میں نہ کھاؤں گی نہ پیوں گی حتیٰ کہ تو کفر کرے یا میں مر جاؤں۔“ جب وہ اس کو کھلانا یا پلانا چاہے تو لاٹھی سے اس کا منہ اٹھاتے اور کھانا اور پانی اس کے منہ میں ڈال دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا﴾ [سورة العنكبوت: 8] ”اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کی تاکید کی ہے اور اگر وہ تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی نہ مان۔“