السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرجل يكون له أبوان مسلمان أو أحدهما فلا يغزو إلا بإذن أهله باب: اس شخص کے بیان میں جس کے مسلمان والدین یا ان میں سے کوئی ایک حیات ہو تو وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد پر نہ جائے۔
حدیث نمبر: 17832
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا حَجَّاجٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السُّلَمِيِّ، أَنَّ جَاهِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ. فَقَالَ: " هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " فَالزَمْهَا؛ فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلَيْهَا ". ثُمَّ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ فِي مَقَاعِدَ شَتَّى فَكَمِثْلِ هَذَا الْقَوْلِ. لَفْظُ حَدِيثِ الصَّغَانِيِّ.حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن جاہمہ سلمی فرماتے ہیں کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے محاذِ جنگ پر جانے کا ارادہ کیا ہے اور آپ کے پاس مشورہ کرنے آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیری ماں زندہ ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں! فرمایا: ”اسی سے وابستہ رہ، جنت اس کے قدموں میں ہے۔“ آپ ﷺ نے یہ دو تین دفعہ کہا۔