السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من كره أن يموت بالأرض التي هاجر منها باب: اس شخص کے بیان میں جس نے اس سرزمين پر مرنا ناپسند کیا جہاں سے اس نے ہجرت کی تھی۔
حدیث نمبر: 17781
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ بِمَكَّةَ، وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا، فَقَالَ: يَرْحَمُكَ اللهُ ابْنَ عَفْرَاءَ " ثُمَّ ذَكَرَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
مذکورہ حدیث کو اسی سند اور اسی معنیٰ کے ساتھ بیان کیا سوائے ان الفاظ کی زیادتی کے ساتھ کہ میں مکہ میں مریض تھا اور آپ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور وہ ناپسند کرتے تھے کہ ان کی وفات اسی زمین پر ہو جس سے انہوں نے ہجرت کی ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن عفراء! اللہ تجھ پر رحم کرے۔“ پھر پوری حدیث بیان کی۔