حدیث نمبر: 17782
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ مَرِضَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَى مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِمَكَّةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي. قَالَ: " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ ". يَرْثِي لَهُ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ "..
حافظ ثناء اللہ

عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے خبر دی کہ وہ فتح مکہ کے سال مکہ میں بیمار ہوئے اور اس بیماری میں ان کو اپنی موت کا اندیشہ ہوا اور نبی ﷺ عیادت کرنے کے لیے آئے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میرے بعد ہرگز پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا، پس تم نیک اعمال کرتے رہو اور جو بھی تم اللہ کی رضا کے لیے کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے تمہارے مقام و مرتبے کو بڑھاتے جائیں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تجھے پیچھے چھوڑ دیا جائے اور تیری وجہ سے اللہ بعض لوگوں کو نفع پہنچائیں اور بعضوں کو نقصان۔“ پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ» ”اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت کو پورا فرما اور ان کو ایڑیوں کے بل نہ لوٹا دینا۔“ لیکن فقیر سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ، ان کے لیے مرثیہ پڑھتے کہ وہ مکہ میں ہی فوت ہو گئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17782
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»