حدیث نمبر: 17780
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: " لَا ". قُلْتُ: فَالشَّطْرِ؟. قَالَ: " لَا ". قُلْتُ فَالثُّلُثِ؟. قَالَ: " الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ ⦗٣١⦘ النَّاسَ بِأَيْدِيهِمْ، وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ مِنْ نَفَقَةٍ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ، وَلَعَلَّ اللهَ أَنْ يَرْفَعَكَ فَيَنْتَفِعَ بِكَ أُنَاسٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ "..
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ میری عیادت کے لیے میرے پاس آئے اور میں اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ مجھے اسی زمین میں موت آئے جہاں سے میں نے ہجرت کی ہے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: آدھے مال کی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے وارثوں کو مال داری کی حالت میں چھوڑ جاؤ، یہ بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو فقیری کی حالت میں چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور آپ جب کبھی بھی اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کریں گے تو وہ آپ کے حق میں صدقہ بن جائے گا حتیٰ کہ وہ نوالہ جو تم اپنی بیوی کے منہ کی طرف اٹھاتے ہو (اس پر بھی اجر ملتا ہے) اور شاید کہ رفعت عطا فرمائے اور تیری وجہ سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور دوسروں (یعنی کافروں، مشرکوں) کو نقصان۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17780
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»