کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کے بیان میں جس نے اس سرزمين پر مرنا ناپسند کیا جہاں سے اس نے ہجرت کی تھی۔
حدیث نمبر: 17780
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا ابْنُ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: " لَا ". قُلْتُ: فَالشَّطْرِ؟. قَالَ: " لَا ". قُلْتُ فَالثُّلُثِ؟. قَالَ: " الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ ⦗٣١⦘ النَّاسَ بِأَيْدِيهِمْ، وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ مِنْ نَفَقَةٍ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ، وَلَعَلَّ اللهَ أَنْ يَرْفَعَكَ فَيَنْتَفِعَ بِكَ أُنَاسٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ میری عیادت کے لیے میرے پاس آئے اور میں اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ مجھے اسی زمین میں موت آئے جہاں سے میں نے ہجرت کی ہے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں سارے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“ میں نے کہا: آدھے مال کی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے وارثوں کو مال داری کی حالت میں چھوڑ جاؤ، یہ بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو فقیری کی حالت میں چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور آپ جب کبھی بھی اللہ کے راستے میں کچھ خرچ کریں گے تو وہ آپ کے حق میں صدقہ بن جائے گا حتیٰ کہ وہ نوالہ جو تم اپنی بیوی کے منہ کی طرف اٹھاتے ہو (اس پر بھی اجر ملتا ہے) اور شاید کہ رفعت عطا فرمائے اور تیری وجہ سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور دوسروں (یعنی کافروں، مشرکوں) کو نقصان۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17780
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 17781
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ بِمَكَّةَ، وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا، فَقَالَ: يَرْحَمُكَ اللهُ ابْنَ عَفْرَاءَ " ثُمَّ ذَكَرَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
مذکورہ حدیث کو اسی سند اور اسی معنیٰ کے ساتھ بیان کیا سوائے ان الفاظ کی زیادتی کے ساتھ کہ میں مکہ میں مریض تھا اور آپ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور وہ ناپسند کرتے تھے کہ ان کی وفات اسی زمین پر ہو جس سے انہوں نے ہجرت کی ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن عفراء! اللہ تجھ پر رحم کرے۔“ پھر پوری حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17781
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري و مسلم»
حدیث نمبر: 17782
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَسَدٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ مَرِضَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَى مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِمَكَّةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي. قَالَ: " إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً، وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ ". يَرْثِي لَهُ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ "..
حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے خبر دی کہ وہ فتح مکہ کے سال مکہ میں بیمار ہوئے اور اس بیماری میں ان کو اپنی موت کا اندیشہ ہوا اور نبی ﷺ عیادت کرنے کے لیے آئے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میرے بعد ہرگز پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا، پس تم نیک اعمال کرتے رہو اور جو بھی تم اللہ کی رضا کے لیے کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے تمہارے مقام و مرتبے کو بڑھاتے جائیں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تجھے پیچھے چھوڑ دیا جائے اور تیری وجہ سے اللہ بعض لوگوں کو نفع پہنچائیں اور بعضوں کو نقصان۔“ پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ» ”اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت کو پورا فرما اور ان کو ایڑیوں کے بل نہ لوٹا دینا۔“ لیکن فقیر سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ، ان کے لیے مرثیہ پڑھتے کہ وہ مکہ میں ہی فوت ہو گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17782
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 17783
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ، قَالَ سُفْيَانُ: وَسَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
اسی سند اور انہی معنی کے ساتھ مذکورہ بالا روایت منقول ہے، سوائے ان الفاظ کے کہ رسول اکرم ﷺ ان کے لیے مرثیہ پڑھتے کہ وہ مکہ میں فوت ہوئے اور سفیان رحمہ اللہ نے کہا کہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ بنو عامر بن لؤی قبیلہ کے ایک آدمی ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17783
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري، تقدم قبله»
حدیث نمبر: 17784
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى سَعْدٍ يَعُودُهُ بِمَكَّةَ فَبَكَى، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكَ؟ ". قَالَ: قَدْ خَشِيتُ أَنْ أَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرْتُ مِنْهَا كَمَا مَاتَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، اللهُمَّ اشْفِ سَعْدًا " ثَلَاثَ مِرَارٍ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے تین بیٹے سب کے سب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مکہ میں ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لائے تو وہ رونے لگ گئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کون سی چیز رلا رہی ہے؟“ انہوں نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ میری موت اس زمین میں واقع ہو جس سے میں نے ہجرت کی ہے، جیسا کہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی وفات اسی شہر میں ہوئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، اللّٰهُمَّ اشْفِ سَعْدًا» ”اے اللہ! سعد کو شفا دے، اے اللہ! سعد کو شفا دے۔“ تین دفعہ آپ ﷺ نے دعا کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17784
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 17785
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا عَفَّانُ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْقَارِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَمْرٍو الْقَارِي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ فَخَلَّفَ سَعْدًا مَرِيضًا حَيْثُ خَرَجَ إِلَى حُنَيْنٍ، فَلَمَّا قَدِمَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ مُعْتَمِرًا دَخَلَ عَلَيْهِ وَهُوَ وَجِعٌ مَغْلُوبٌ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِي مَالًا وَإِنِّي أُورَثُ كَلَالَةً فَأُوصِي بِمَالِي أَوْ أَتَصَدَّقُ بِهِ؟ قَالَ: " لَا ". قَالَ: فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ؟ قَالَ: " لَا ". قَالَ: فَأُوصِي بِشَطْرِهِ؟. قَالَ: " لَا ". قَالَ: فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَذَاكَ كَثِيرٌ ". قَالَ: أَيْ رَسُولَ اللهِ، أُصِيبُ بِالدَّارِ الَّتِي خَرَجْتُ مِنْهَا مُهَاجِرًا؟ قَالَ: " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَرْفَعَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْ يُكَادَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيَنْتَفِعَ بِكَ آخَرُونَ، يَا عَمْرُو بْنَ الْقَارِي إِنْ مَاتَ سَعْدٌ بَعْدِي فَهَهُنَا ادْفِنْهُ نَحْوَ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ ". وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذَا. هَذِهِ الرِّوَايَةُ تُوَافِقُ رِوَايَةَ سُفْيَانَ فِي أَنَّ ذَلِكَ كَانَ عَامَ الْفَتْحِ، وَسَائِرُ الرُّوَاةِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالُوا فِيهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَاخْتُلِفَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَلَى ابْنِ خُثَيْمٍ فِي اسْمِ حَفَدَةِ عَمْرِو بْنِ الْقَارِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو قاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، اور جب آپ ﷺ حنین جانے لگے تو آپ ﷺ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑ دیا، اور جب آپ ﷺ جعرانہ سے عمرہ کرنے آئے تو آپ ﷺ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور وہ تکلیف سے نڈھال غشی کی حالت میں تھے۔ (افاقہ کے بعد) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں مال دار آدمی ہوں اور میرا وارث بھی کوئی نہیں ہے (یعنی کلالہ)، کیا میں سارے مال کی وصیت کر جاؤں یا صدقہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: کیا دو تہائی مال کا صدقہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے پھر عرض کیا: کیا ایک تہائی مال کو صدقہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! اور یہ بھی زیادہ ہے۔“ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی جگہ پر بیماری میں مبتلا ہوں جہاں سے میں نے ہجرت کی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے درجات کو بلند کرے گا اور تیرے ذریعے سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچائے گا اور بعض کو فائدہ۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمرو بن قاری! اگر میرے بعد سعد فوت ہو جائے تو اسے یہاں دفن کرنا۔“ آپ ﷺ نے مدینہ کے راستے کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا۔ یہ روایت بھی سفیان کی روایت کے موافق ہے جس میں ہے کہ یہ واقعہ عام الفتح میں پیش آیا، جبکہ باقی رواۃ زہری کے طریق سے کہتے ہیں کہ یہ واقعہ حجۃ الوداع کے سال میں پیش آیا، اور اسی طرح اس روایت میں ابن خیثم نام کے آدمی میں بھی اختلاف کیا گیا ہے جو عمرو بن قاری کے پوتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17785
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 17786
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ: خَلَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَعْدٍ رَجُلًا، فَقَالَ: " إِنْ مَاتَ فَلَا تَدْفِنُوهُ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبدالرحمن اعرج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ پر ایک آدمی مقرر کیا اور فرمایا: ”اگر وہ یہاں فوت ہو جائیں تو انہیں اس جگہ دفن نہ کرنا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17786
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ مرسل»
حدیث نمبر: 17787
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَبُو يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: قِالَ ِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُكْرَهُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ ". هَذَا مُرْسَلٌ، فَكَذَلِكَ مَا قَبْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے کہا: کیا یہ بات آدمی کے لیے ناپسندیدہ ہے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہو اسی میں اس کو موت آئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں!“ یہ روایت بھی مرسل ہے اور اس سے ماقبل بھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17787
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»
حدیث نمبر: 17788
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَفْصٍ، بِنَيْسَابُورَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَسَدِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي يُهَاجِرُ مِنْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”آدمی کے لیے یہ چیز ناپسندیدہ ہے کہ جس زمین سے وہ ہجرت کرے اور پھر اسی ہی زمین پر اسے موت آئے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17788
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 17789
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَيْسَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ، قَالَ: " اللهُمَّ لَا تَجْعَلْ مَنَايَانَا فِيهَا حَتَّى تُخْرِجَنَا مِنْهَا ". تَابَعَهُ وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں داخل ہوتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنَا فِي أَرْضٍ هَاجَرْنَا مِنْهَا» ”اے اللہ! ہمیں اس زمین پر موت نہ دینا جس سے ہم نے ہجرت کی ہے۔“ وکیع نے عبداللہ بن سعید کی متابعت کی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17789
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 17790
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّمَا النَّاسُ كَإِبِلٍ مِائَةٍ لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً ". قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: " يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ لَا تَتَّخِذُوا الْأَمْوَالَ بِمَكَّةَ وَأَعِدُّوهَا بِدَارِا هِجْرَتِكُمْ، فَإِنَّ قَلْبَ الرَّجُلِ عِنْدَ مَالِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”لوگ سو اونٹ کی طرح ہیں جن میں ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو۔“
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: اے مہاجرین کی جماعت! اپنے مالوں کو مکہ میں جمع نہ کرو اور ان کو اپنے ہجرت کے گھر میں مہیا نہ کرو، کیونکہ آدمی کا دل اس کے مال کے پاس ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17790
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»