السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ قَاضِي دِمَشْقَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّعْدِيِّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا نَزَلُوا قَالُوا: احْفَظْ لَنَا رِكَابَنَا حَتَّى نَقْضِيَ حَاجَتَنَا ثُمَّ تَدْخُلَ. وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقَضَى لَهُمْ حَاجَتَهُمْ، ثُمَّ قَالُوا لَهُ: ادْخُلْ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " حَاجَتُكَ؟ ". قَالَ: حَاجَتِي أَنْ تُخْبِرَنِي أَنْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ؟ قَالَ: " حَاجَتُكَ مِنْ خَيْرِ حَوَائِجِهِمْ، لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ ".سیدنا عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ (جو مالک بن حسل قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں) فرماتے ہیں کہ میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ رسول کریم ﷺ کے پاس آیا۔ جب وہ اپنی سواریوں سے اترے تو انہوں نے کہا کہ آپ سواریوں کی حفاظت کریں۔ جب ہم اپنی حاجت پوری کریں گے تو تم رسول کریم ﷺ کے پاس چلے جانا اور اپنی ضرورت پوری کر لینا، اور میں سب سے چھوٹا تھا۔ جب وہ اپنی حاجت پوری کر کے آ گئے تو انہوں نے مجھے کہا کہ اب تم چلے جاؤ۔ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اکرم ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری کیا حاجت ہے؟“ میں نے کہا: میری حاجت اور سوال یہ ہے کہ آپ مجھے ہجرت کے متعلق بتائیے، کیا ہجرت منقطع ہو گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک دشمن سے قتال کیا جائے گا ہجرت منقطع نہیں ہوگی۔“