السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
حدیث نمبر: 17776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ جَاءَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَكَانَتْ مُجَاوِرَةً، قَالَ: فَقَالَ عُبَيْدٌ: أَيْ هَنْتَاهُ أَسْأَلُكِ عَنِ الْهِجْرَةِ، قَالَتْ: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، إِنَّمَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ قَبْلَ الْفَتْحِ حَيْثُ يُهَاجِرُ الرَّجُلُ بِدِينِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا حِينَ كَانَ الْفَتْحُ حَيْثُ شَاءَ الرَّجُلُ عَبَدَ اللهَ لَا يُمْنَعُ.حافظ ثناء اللہ
عطاء کہتے ہیں کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور وہ اعتکاف بیٹھی تھیں یا «مُجَاوَرَةِ» کا دوسرا ترجمہ ہے کہ وہ ان کے پڑوس میں رہتی تھیں، تو ان سے عبید نے کہا: اے «هَنْتَاهُ»! (یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کنیت وغیرہ ہے) میں آپ سے ہجرت کے متعلق سوال کرتا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں“، ہجرت تو فتح مکہ سے پہلے تھی جب آدمی اپنے دین کی خاطر نبی ﷺ کی طرف ہجرت کرتا تھا، تو جب فتح ہو گئی ہے تو اب آدمی جہاں چاہے اللہ کی عبادت کر سکتا ہے، اسے عبادت سے منع نہیں کیا جائے گا۔