کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
حدیث نمبر: 17762
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِقَوْمٍ بِمَكَّةَ أَنْ يُقِيمُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ مِنْهُمُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَغَيْرُهُ إِذْ لَمْ يَخَافُوا الْفِتْنَةَ..
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں کچھ لوگوں کو ان کے اسلام لانے کے بعد وہیں مقیم رہنے کی اجازت دی تھی، جن میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ وغیرہ شامل تھے، کیونکہ انہیں (اپنے دین کے بارے میں) فتنے کا اندیشہ نہیں تھا۔“...
حدیث نمبر: 17762
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عِلَاقَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: " كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ أَسْلَمَ وَأَقَامَ عَلَى سِقَايَتِهِ وَلَمْ يُهَاجِرْ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، آپ مکہ میں حاجیوں کو پانی پلانے والے عہدہ پر کام کرتے رہے اور ہجرت نہ کی۔
حدیث نمبر: 17763
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: " ثُمَّ إِنَّ أَبَا الْعَاصِ ⦗٢٦⦘ رَجَعَ إِلَى مَكَّةَ بَعْدَمَا أَسْلَمَ وَلَمْ يَشْهَدْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْهَدًا، ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعْدَ ذَلِكَ فَتُوُفِّيَ فِي ذِي الْحِجَّةِ مِنْ سَنَةِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَوْصَى إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وكَانَ يَأْمُرُ جُيُوشَهُ أَنْ يَقُولُوا لِمَنْ أَسْلَمَ: إِنْ هَاجَرْتُمْ فَلَكُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَإِنْ أَقَمْتُمْ فَأَنْتُمْ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ وَلَيْسَ يُخَيِّرُهُمْ إِلَّا فِيمَا يَحِلُّ لَهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو العاص رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد پھر مکہ میں لوٹ آئے اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کسی غزوے میں شرکت نہ کی۔ اس کے بعد پھر مدینہ میں آئے اور ذی الحجہ سن 12ھ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پائی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو وصیت کی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے لشکروں کو حکم دیتے تھے کہ وہ اسلام قبول کرنے والوں سے کہیں کہ ”اگر تم نے ہجرت کی تو تم کو بھی وہی ملے گا جو مہاجرین کو ملتا ہے اور اگر تم نے ہجرت نہ کی تو تم دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہو گے اور ان کو وہی کچھ دیا جاتا ہے جو ان کے لیے جائز اور مناسب ہو۔“
حدیث نمبر: 17764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، وَقَالَ: " إِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهُنَّ أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَاعْلَمُوا أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ مِثْلَ أَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللهِ الَّذِي كَانَ يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ ". . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ وَرَدَتْ أَخْبَارٌ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَعْنَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کسی کو لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو اسے خاص طور پر تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیتے اور اسے یہ بھی حکم دیتے: ”جب تیری ملاقات اپنے مشرک دشمنوں سے ہو تو پہلے ان کو تین چیزوں کی دعوت دینا۔ اگر وہ تین میں سے کسی ایک کو بھی قبول کر لیں تو تم ان کی اس بات کو مان لینا اور ان سے قتال نہ کرنا۔ سب سے پہلے ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا۔ اگر وہ قبول کر لیں تو تم بھی ان سے ان کے اسلام کو قبول کرنا اور ان سے قتال نہ کرنا۔ پھر ان کو اس جگہ کو بدلنے کا حکم دینا اور ان کو دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دینا اور ساتھ یہ بھی بتا دینا کہ اگر وہ یہ کام کرتے ہیں تو ان کے حقوق و فرائض ویسے ہی ہوں گے جیسے باقی مہاجرین کے ہیں، اور اگر وہ ہجرت سے انکار کریں اور اپنے وطن اور شہر کو پسند کریں تو ان سے کہنا کہ اس صورت میں تمہارے حقوق و فرائض دیہات کے مسلمان جیسے ہوں گے اور ان کا مالِ فئے اور مالِ غنیمت میں کوئی حصہ نہ ہو گا سوائے اس صورت کے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔“
حدیث نمبر: 17765
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَيْرُوتِيُّ، أنبأ أَبِي، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: " إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ إِبِلٌ؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " فَهَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا، اس نے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہجرت کا معاملہ بڑا مشکل ہے، کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے کسی اونٹ کو عاریتاً دیتے ہو؟“ اس نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس کے ورود کے دن اس کا دودھ دوہتے ہو اور تقسیم کرتے ہو؟“ اس نے کہا: جی! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر ان کو لے کر دریاؤں اور جنگلوں کی طرف نکل جاؤ اور وہاں جا کر اچھے اعمال کرو، اللہ تعالیٰ تیرے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔“
حدیث نمبر: 17766
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ أَبُو الْحُسَيْنِ، ثنا فُلَيْحٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ كَانَ عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ حُبِسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا تُنْبِئُ النَّاسَ بِذَلِكَ؟ قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ وَفَوْقَهُ عَرْشُ اللهِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ، عَنْ وَلَدِهِ فُلَيْحٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا، چاہے وہ ہجرت کرے یا اپنی ہی پیدائش والی جگہ پر بیٹھا رہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس چیز کی لوگوں کو خبر نہ دے دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں جو اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور ہر دو درجوں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان اور زمین کا ہے اور جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنتِ فردوس کا سوال کرو کیونکہ یہ درمیانی اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اور اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اسی سے ہی جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔“
حدیث نمبر: 17767
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا جَرِيرٌ، ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، بِهَا أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ: " لَا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. وَقَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا هِجْرَةَ " يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمَ: لَا هِجْرَةَ وُجُوبًا عَلَى مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ بَعْدَ فَتْحِهَا، فَإِنَّهَا قَدْ صَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ وَأَمْنٍ، فَلَا يَخَافُ أَحَدٌ فِيهَا أَنْ يُفْتَنَ عَنْ دِينِهِ، وَكَذَلِكَ غَيْرُ مَكَّةَ إِذَا صَارَ فِي مَعْنَاهَا بَعْدَ الْفَتْحِ فِي الْأَمْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فتح مکہ کے دن (آج کے بعد) کوئی ہجرت نہیں، لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمہیں (جہاد) کی طرف بلایا جائے تو پھر تم نکلو۔“
آپ ﷺ کے اس فرمان «لَا هِجْرَةَ» ”کوئی ہجرت نہیں“ کا مطلب یہ ہے (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے) کہ اہل مکہ میں سے جس نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا ہے اس پر کوئی ہجرت واجب نہیں کیونکہ یہ دارُ الاسلام اور دارُ الامن بن گیا ہے اور کسی کو اس کے دین کے متعلق اس شہر میں فتنے کا ڈر نہیں اور اسی طرح مکہ کے علاوہ دوسری جگہیں جب کہ وہ فتح ہونے کے بعد امن و امان کا گہوارہ بن جائیں (وہاں سے بھی ہجرت کرنا واجب نہیں)۔
آپ ﷺ کے اس فرمان «لَا هِجْرَةَ» ”کوئی ہجرت نہیں“ کا مطلب یہ ہے (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے) کہ اہل مکہ میں سے جس نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا ہے اس پر کوئی ہجرت واجب نہیں کیونکہ یہ دارُ الاسلام اور دارُ الامن بن گیا ہے اور کسی کو اس کے دین کے متعلق اس شہر میں فتنے کا ڈر نہیں اور اسی طرح مکہ کے علاوہ دوسری جگہیں جب کہ وہ فتح ہونے کے بعد امن و امان کا گہوارہ بن جائیں (وہاں سے بھی ہجرت کرنا واجب نہیں)۔
حدیث نمبر: 17768
وَفِي مِثْلِ ذَلِكَ وَرَدَ مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا سُوَيْدٌ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ، أنبأ بِشْرُ بْنُ آدَمَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ،، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ، قَالَ: جِئْتُ بِأَخِي أَبِي مَعْبَدٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ: " قَدْ مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَعَلَى أِيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ؟ قَالَ: " عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ "، فَبَايَعَهُ. قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ، فَقَالَ: صَدَقَ. ⦗٢٨⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی سیدنا ابو معبد رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آیا اور میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ان سے ہجرت پر بیعت لیں“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہجرت جنہوں نے کرنی تھی انہوں نے کر لی اور (اب ہجرت نہیں)“ تو میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! تو پھر آپ ان سے کس چیز پر بیعت لیں گے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام، جہاد اور خیر پر“، پھر آپ ﷺ نے ان سے بیعت لی۔ ابو عثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات سیدنا ابو معبد رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان کو سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ کے قول کی خبر دی تو انہوں نے کہا کہ مجاشع نے سچ کہا۔
حدیث نمبر: 17769
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَانِيَ يَوْمِ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ: " بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ، وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ يَوْمَ الْفَتْحِ ". كَذَا وَجَدْتُهُ، وَإِنَّمَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن اپنے والد کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آیا اور آپ ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ! میرے والد سے ہجرت پر بیعت لیجیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں کیونکہ ہجرت فتح مکہ کے دن سے منقطع ہوگئی ہے۔“
حدیث نمبر: 17770
أَخْبَرَنَاه أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ يَعْلَى، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى قَالَ: كَلَّمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي أُمَيَّةُ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ؛ فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ ". وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ: ابْنُ أَخِي يَعْلَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا یعلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ سے امیہ کے بارے میں بات کی اور آپ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے باپ سے ہجرت پر بیعت لیجیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، لیکن میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 17771
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُسْرَوْجِرْدِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ كَاسِبٍ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قِيلَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ: إِنَّهُ لَا دِينَ لِمَنْ لَمْ يُهَاجِرْ، فَقَالَ: لَا أَصِلُ إِلَى بَيْتِي حَتَّى أَقْدُمَ الْمَدِينَةَ. فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا وَهْبٍ؟ ". قَالَ: قِيلَ إِنَّهُ لَا دِينَ لِمَنْ لَمْ يُهَاجِرْ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ أَبَا وَهْبٍ إِلَى أَبَاطِحِ مَكَّةَ فَقَرُّوا عَلَى مِلَّتِكُمْ، فَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِنِ اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا اور وہ مکہ کے بالائی حصہ میں تھے کہ جس نے ہجرت نہ کی اس کا کوئی دین نہیں، تو انہوں نے کہا کہ جب تک میں مدینہ میں نہیں جاتا اس سے پہلے میں گھر میں داخل نہیں ہوں گا۔ کہتے ہیں کہ وہ مدینہ میں آئے اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ہاں اترے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو وہب! تجھے کیا چیز لے آئی؟“ تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ سنا ہے کہ جس نے ہجرت نہیں کی اس کا کوئی دین نہیں، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو وہب! بطحاء مکہ کی طرف لوٹ جاؤ اور اپنے گھروں میں سکون کرو کیونکہ ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تم کو (جہاد وغیرہ) کے لیے بلایا جائے تو پھر دیر نہ کرنا۔“ (قصہ کے علاوہ)
حدیث نمبر: 17772
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ يَحْيَى الْآدَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٢٩⦘ مَاهَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ النُّعْمَانَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ رَجُلٍ، سَمِعَ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: لَيْسَ لَنَا أُجُورٌ بِمَكَّةَ. قَالَ: " لَيَأْتِيَنَّكُمْ أُجُورُكُمْ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي جُحْرِ ثَعْلَبٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے مکہ میں رہتے ہوئے کوئی اجر نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں تمہارا ضرور اجر ملے گا اگرچہ تم لومڑی کے بل میں بھی ہوئے“۔
حدیث نمبر: 17773
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا فُدَيْكُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ، قَالَ: جَاءَ فُدَيْكٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا فُدَيْكُ أَقِمِ الصَّلَاةَ، وَآتِ الزَّكَاةَ، وَاهْجُرِ السُّوءَ، وَاسْكُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمِكَ حَيْثُ شِئْتَ ". قَالَ: وَأَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ: " تَكُنْ مُهَاجِرًا "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا فدیک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جس نے ہجرت نہ کی وہ ہلاک ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے فدیک! نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور برائی کو چھوڑ دو، پھر تمہارا جہاں دل چاہے تو اپنی قوم کی زمین میں رہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ میرا یہ خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم یہ کام کرنے والے بن جاؤ گے تو تم مہاجر ہو جاؤ گے۔“
حدیث نمبر: 17774
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، لَيْسَ فِي حَدِيثِ الزُّبَيْدِيِّ: " تَكُنْ مُهَاجِرًا ".
حافظ ثناء اللہ
یہ حدیث بھی پہلی حدیث کی طرح ہے، لیکن اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ زبیدی کی روایت میں ہے کہ ”تم مہاجر بن جاؤ گے۔“
حدیث نمبر: 17775
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُمَيْرٍ، ثنا الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَامَ عَلَيْنَا أُنَاسٌ مِنْ قَرَابَاتِنَا، فَزَعَمُوا أَنَّهُ لَا يَنْفَعُ عَمَلٌ دُونَ الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَأَحْسِنُوا عِبَادَةَ اللهِ وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دیہات میں سے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہمارے کچھ قریبی لوگ آئے اور انہوں نے آکر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہجرت اور جہاد کے بغیر کوئی عمل فائدہ مند نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی رہو، تم اللہ کی عبادت اچھے طریقے سے کرو اور اس پر جنت کی بشارت بھی حاصل کرلو۔“
حدیث نمبر: 17776
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ جَاءَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَكَانَتْ مُجَاوِرَةً، قَالَ: فَقَالَ عُبَيْدٌ: أَيْ هَنْتَاهُ أَسْأَلُكِ عَنِ الْهِجْرَةِ، قَالَتْ: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، إِنَّمَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ قَبْلَ الْفَتْحِ حَيْثُ يُهَاجِرُ الرَّجُلُ بِدِينِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا حِينَ كَانَ الْفَتْحُ حَيْثُ شَاءَ الرَّجُلُ عَبَدَ اللهَ لَا يُمْنَعُ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء کہتے ہیں کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور وہ اعتکاف بیٹھی تھیں یا «مُجَاوَرَةِ» کا دوسرا ترجمہ ہے کہ وہ ان کے پڑوس میں رہتی تھیں، تو ان سے عبید نے کہا: اے «هَنْتَاهُ»! (یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کنیت وغیرہ ہے) میں آپ سے ہجرت کے متعلق سوال کرتا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں“، ہجرت تو فتح مکہ سے پہلے تھی جب آدمی اپنے دین کی خاطر نبی ﷺ کی طرف ہجرت کرتا تھا، تو جب فتح ہو گئی ہے تو اب آدمی جہاں چاہے اللہ کی عبادت کر سکتا ہے، اسے عبادت سے منع نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 17777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: زُرْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْهِجْرَةِ، قَالَتْ: لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ إِنَّمَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَكَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَفِرُّونَ بِدِينِهِمْ ⦗٣٠⦘ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ يُفْتَنُوا فَقَدْ أَفْشَى اللهُ الْإِسْلَامَ، فَحَيْثُ مَا شَاءَ رَجُلٌ عَبَدَ رَبَّهُ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ وَابْنِ جُرَيْجٍ. وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَعْنَى هَذَا، وَكُلُّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَى انْقِطَاعِ الْهِجْرَةِ وُجُوبًا عَنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَغَيْرِهَا مِنَ الْبِلَادِ بَعْدَ مَا صَارَتْ دَارَ أَمْنٍ وَإِسْلَامٍ، فَأَمَّا دَارُ حَرْبٍ أَسْلَمَ فِيهَا مَنْ يَخَافُ الْفِتْنَةَ عَلَى دِينِهِ وَلَهُ مَا يُبَلِّغُهُ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ فَعَلَيْهِ أَنْ يُهَاجِرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی تو انہوں نے ان سے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: آج کوئی ہجرت نہیں، ہجرت تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف کی جاتی تھی۔ جب مؤمنین کو ان کے دین کے حوالے سے فتنے میں ڈالا جاتا تھا تو وہ اپنے دین کو بچانے کے لیے رسول کریم ﷺ کے پاس آتے تھے۔ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اتنا پھیلا دیا ہے کہ آدمی جہاں چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے۔ اب تو ”جہاد اور نیت باقی ہے“۔
یہ تمام احادیث اہل مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے وجوب کی طرف لوٹتی ہیں یا ان کے علاوہ ایسے شہر کی طرف لوٹتی ہیں جو دار الاسلام یا دار الامن بن گئے ہیں اور اگر کوئی آدمی دار الحرب میں ہے اور اس کو وہاں پر اسلام پر چلنا مشکل ہے تو اس کے لیے ہجرت باقی ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آجائے اور اپنے دین کو بچا لے۔
یہ تمام احادیث اہل مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے وجوب کی طرف لوٹتی ہیں یا ان کے علاوہ ایسے شہر کی طرف لوٹتی ہیں جو دار الاسلام یا دار الامن بن گئے ہیں اور اگر کوئی آدمی دار الحرب میں ہے اور اس کو وہاں پر اسلام پر چلنا مشکل ہے تو اس کے لیے ہجرت باقی ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آجائے اور اپنے دین کو بچا لے۔
حدیث نمبر: 17778
وَفِي مِثْلِ ذَلِكَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أنبأ عِيسَى، عَنْ حَرِيزٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو ہند سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جب تک توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوگا اس وقت تک ہجرت کا دروازہ بھی بند نہیں ہوگا اور توبہ کا دروازہ اس وقت بند ہوگا جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔“
حدیث نمبر: 17779
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ قَاضِي دِمَشْقَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّعْدِيِّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَسَلٍ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا نَزَلُوا قَالُوا: احْفَظْ لَنَا رِكَابَنَا حَتَّى نَقْضِيَ حَاجَتَنَا ثُمَّ تَدْخُلَ. وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَقَضَى لَهُمْ حَاجَتَهُمْ، ثُمَّ قَالُوا لَهُ: ادْخُلْ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " حَاجَتُكَ؟ ". قَالَ: حَاجَتِي أَنْ تُخْبِرَنِي أَنْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ؟ قَالَ: " حَاجَتُكَ مِنْ خَيْرِ حَوَائِجِهِمْ، لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ (جو مالک بن حسل قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں) فرماتے ہیں کہ میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ رسول کریم ﷺ کے پاس آیا۔ جب وہ اپنی سواریوں سے اترے تو انہوں نے کہا کہ آپ سواریوں کی حفاظت کریں۔ جب ہم اپنی حاجت پوری کریں گے تو تم رسول کریم ﷺ کے پاس چلے جانا اور اپنی ضرورت پوری کر لینا، اور میں سب سے چھوٹا تھا۔ جب وہ اپنی حاجت پوری کر کے آ گئے تو انہوں نے مجھے کہا کہ اب تم چلے جاؤ۔ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اکرم ﷺ کے پاس گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری کیا حاجت ہے؟“ میں نے کہا: میری حاجت اور سوال یہ ہے کہ آپ مجھے ہجرت کے متعلق بتائیے، کیا ہجرت منقطع ہو گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک دشمن سے قتال کیا جائے گا ہجرت منقطع نہیں ہوگی۔“