السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
حدیث نمبر: 17775
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُمَيْرٍ، ثنا الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَامَ عَلَيْنَا أُنَاسٌ مِنْ قَرَابَاتِنَا، فَزَعَمُوا أَنَّهُ لَا يَنْفَعُ عَمَلٌ دُونَ الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَأَحْسِنُوا عِبَادَةَ اللهِ وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دیہات میں سے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہمارے کچھ قریبی لوگ آئے اور انہوں نے آکر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہجرت اور جہاد کے بغیر کوئی عمل فائدہ مند نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی رہو، تم اللہ کی عبادت اچھے طریقے سے کرو اور اس پر جنت کی بشارت بھی حاصل کرلو۔“