حدیث نمبر: 17777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: زُرْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْهِجْرَةِ، قَالَتْ: لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ إِنَّمَا كَانَتِ الْهِجْرَةُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَكَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَفِرُّونَ بِدِينِهِمْ ⦗٣٠⦘ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنْ يُفْتَنُوا فَقَدْ أَفْشَى اللهُ الْإِسْلَامَ، فَحَيْثُ مَا شَاءَ رَجُلٌ عَبَدَ رَبَّهُ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ وَابْنِ جُرَيْجٍ. وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَعْنَى هَذَا، وَكُلُّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَى انْقِطَاعِ الْهِجْرَةِ وُجُوبًا عَنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَغَيْرِهَا مِنَ الْبِلَادِ بَعْدَ مَا صَارَتْ دَارَ أَمْنٍ وَإِسْلَامٍ، فَأَمَّا دَارُ حَرْبٍ أَسْلَمَ فِيهَا مَنْ يَخَافُ الْفِتْنَةَ عَلَى دِينِهِ وَلَهُ مَا يُبَلِّغُهُ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ فَعَلَيْهِ أَنْ يُهَاجِرَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبید بن عمیر کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی تو انہوں نے ان سے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: آج کوئی ہجرت نہیں، ہجرت تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف کی جاتی تھی۔ جب مؤمنین کو ان کے دین کے حوالے سے فتنے میں ڈالا جاتا تھا تو وہ اپنے دین کو بچانے کے لیے رسول کریم ﷺ کے پاس آتے تھے۔ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اتنا پھیلا دیا ہے کہ آدمی جہاں چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے۔ اب تو ”جہاد اور نیت باقی ہے“۔
یہ تمام احادیث اہل مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے وجوب کی طرف لوٹتی ہیں یا ان کے علاوہ ایسے شہر کی طرف لوٹتی ہیں جو دار الاسلام یا دار الامن بن گئے ہیں اور اگر کوئی آدمی دار الحرب میں ہے اور اس کو وہاں پر اسلام پر چلنا مشکل ہے تو اس کے لیے ہجرت باقی ہے کہ وہ وہاں سے ہجرت کر کے دار الاسلام میں آجائے اور اپنے دین کو بچا لے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17777
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٣٠٩٠»