السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
وَفِي مِثْلِ ذَلِكَ وَرَدَ مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا سُوَيْدٌ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْجَارُودِيُّ، أنبأ بِشْرُ بْنُ آدَمَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ،، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ، قَالَ: جِئْتُ بِأَخِي أَبِي مَعْبَدٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ: " قَدْ مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَعَلَى أِيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ؟ قَالَ: " عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ "، فَبَايَعَهُ. قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ، فَقَالَ: صَدَقَ. ⦗٢٨⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ.سیدنا مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی سیدنا ابو معبد رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آیا اور میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ان سے ہجرت پر بیعت لیں“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہجرت جنہوں نے کرنی تھی انہوں نے کر لی اور (اب ہجرت نہیں)“ تو میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! تو پھر آپ ان سے کس چیز پر بیعت لیں گے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام، جہاد اور خیر پر“، پھر آپ ﷺ نے ان سے بیعت لی۔ ابو عثمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری ملاقات سیدنا ابو معبد رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان کو سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ کے قول کی خبر دی تو انہوں نے کہا کہ مجاشع نے سچ کہا۔