السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
حدیث نمبر: 17769
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَانِيَ يَوْمِ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ: " بَلْ أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ، وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ يَوْمَ الْفَتْحِ ". كَذَا وَجَدْتُهُ، وَإِنَّمَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن اپنے والد کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آیا اور آپ ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ! میرے والد سے ہجرت پر بیعت لیجیے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں کیونکہ ہجرت فتح مکہ کے دن سے منقطع ہوگئی ہے۔“