السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا جَرِيرٌ، ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَاءُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، بِهَا أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ: " لَا هِجْرَةَ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. وَقَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا هِجْرَةَ " يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمَ: لَا هِجْرَةَ وُجُوبًا عَلَى مَنْ أَسْلَمَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ بَعْدَ فَتْحِهَا، فَإِنَّهَا قَدْ صَارَتْ دَارَ إِسْلَامٍ وَأَمْنٍ، فَلَا يَخَافُ أَحَدٌ فِيهَا أَنْ يُفْتَنَ عَنْ دِينِهِ، وَكَذَلِكَ غَيْرُ مَكَّةَ إِذَا صَارَ فِي مَعْنَاهَا بَعْدَ الْفَتْحِ فِي الْأَمْنِ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فتح مکہ کے دن (آج کے بعد) کوئی ہجرت نہیں، لیکن جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمہیں (جہاد) کی طرف بلایا جائے تو پھر تم نکلو۔“
آپ ﷺ کے اس فرمان «لَا هِجْرَةَ» ”کوئی ہجرت نہیں“ کا مطلب یہ ہے (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے) کہ اہل مکہ میں سے جس نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا ہے اس پر کوئی ہجرت واجب نہیں کیونکہ یہ دارُ الاسلام اور دارُ الامن بن گیا ہے اور کسی کو اس کے دین کے متعلق اس شہر میں فتنے کا ڈر نہیں اور اسی طرح مکہ کے علاوہ دوسری جگہیں جب کہ وہ فتح ہونے کے بعد امن و امان کا گہوارہ بن جائیں (وہاں سے بھی ہجرت کرنا واجب نہیں)۔