السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ أَبُو الْحُسَيْنِ، ثنا فُلَيْحٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ كَانَ عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ حُبِسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا تُنْبِئُ النَّاسَ بِذَلِكَ؟ قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ وَفَوْقَهُ عَرْشُ اللهِ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ صَالِحٍ، عَنْ وَلَدِهِ فُلَيْحٍ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا، چاہے وہ ہجرت کرے یا اپنی ہی پیدائش والی جگہ پر بیٹھا رہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس چیز کی لوگوں کو خبر نہ دے دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں جو اس کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور ہر دو درجوں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان اور زمین کا ہے اور جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنتِ فردوس کا سوال کرو کیونکہ یہ درمیانی اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اور اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے اور اسی سے ہی جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۔“