السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
حدیث نمبر: 17765
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَيْرُوتِيُّ، أنبأ أَبِي، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: " إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ إِبِلٌ؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " فَهَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا، اس نے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہجرت کا معاملہ بڑا مشکل ہے، کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان میں سے کسی اونٹ کو عاریتاً دیتے ہو؟“ اس نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس کے ورود کے دن اس کا دودھ دوہتے ہو اور تقسیم کرتے ہو؟“ اس نے کہا: جی! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر ان کو لے کر دریاؤں اور جنگلوں کی طرف نکل جاؤ اور وہاں جا کر اچھے اعمال کرو، اللہ تعالیٰ تیرے اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔“