أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا ضَاقَتْ عَلَيْنَا مَكَّةُ وَأُوذِيَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفُتِنُوا وَرَأَوْا مَا يُصِيبُهُمْ مِنَ الْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ فِي دِينِهِمْ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَطِيعُ دَفْعَ ذَلِكَ عَنْهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَعَةٍ مِنْ قَوْمِهِ وَعَمِّهِ، لَا يَصِلُ إِلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا يَكْرَهُ مَا يَنَالُ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مَلِكًا لَا يُظْلَمُ أَحَدٌ عِنْدَهُ فَالْحَقُوا بِبِلَادِهِ حَتَّى يَجْعَلَ اللهُ لَكُمْ فَرَجًا وَمَخْرَجًا مِمَّا أَنْتُمْ فِيهِ "، فَخَرَجْنَا إِلَيْهَا أَرْسَالًا حَتَّى اجْتَمَعْنَا وَنَزَلْنَا بِخَيْرِ دَارٍ إِلَى خَيْرِ جَارٍ أَمِنَّا عَلَى دِينِنَا، وَلَمْ نَخْشَ مِنْهُ ظُلْمًا. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.ام المؤمنین سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم پر مکہ تنگ ہو گیا اور اصحابِ رسول ﷺ کو طرح طرح کی تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اپنے دین پر عمل کرنے کی وجہ سے آزمائشوں اور فتنوں کو دیکھا اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ بھی ان کے دفاع سے قاصر ہیں کیونکہ درمیان میں آپ ﷺ کی قوم اور آپ کے چچا رکاوٹ بنے ہوئے تھے اور آپ ﷺ اپنے ساتھیوں کی تکلیفوں پر بے بس ہو گئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”حبشہ کی سرزمین میں ایک ایسا بادشاہ ہے جس کے پاس کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا، لہٰذا تم ان کے شہر میں چلے جاؤ، جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے متبادل تمہارے لیے کوئی اور راستہ نہ نکال دے۔“ پھر ہم آہستہ آہستہ وہاں سے نکلے حتیٰ کہ ہم حبشہ میں جمع ہو گئے اور ہم اچھے گھر اور اچھے پڑوس میں تھے، وہاں ظلم و زیادتی کا ڈر بھی نہ تھا، پھر انہوں نے لمبی حدیث بیان کی۔