أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوْبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، ثنا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: قَالُوا: جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ: " كَانَ اللهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرَهُ، وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ، وَخَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، وَالْمُرَادُ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، ثُمَّ خَلَقَ الْمَاءَ، وَخَلَقَ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ، وَخَلَقَ الْقَلَمَ، وَأَمَرَهُ فَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ.سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا۔ پھر انہوں نے حدیث بیان کی اور اس میں یہ الفاظ اس طرح تھے کہ انہوں نے کہا: ”ہم آپ سے عالم کی پیدائش کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ہی تھا اور اس کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا اور آسمان و زمین کو پیدا کیا۔“
اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں عمر بن حفص بن غیاث سے روایت کیا ہے اور اس سے مراد، اللہ بہتر جانتا ہے، یہ ہے کہ پھر پانی کو پیدا کیا اور پانی پر عرش کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا اور اسے لکھنے کا حکم دیا، پھر اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھ دیا۔