حدیث نمبر: 17701
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَيْهَقِيُّ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ "، قَالُوا: قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ "، قَالُوا: قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْنَا لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ وَنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ مَا كَانَ؟ قَالَ: " كَانَ اللهُ عَزَّ وَجلَّ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ "، قَالَ: وَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ بْنَ حُصَيْنٍ رَاحِلَتَكَ أَدْرِكْ نَاقَتَكَ، فَقَدْ ذَهَبَتْ فَانْطَلَقْتُ فِي طَلَبِهَا فَإِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُوْنَهَا، وَايْمُ اللهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا ذَهَبَتْ وَأَنِّي لَمْ أَقُمْ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ آپ کے پاس بنی تمیم کے لوگ آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنو تمیم! خوش ہو جاؤ۔“ انہوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت تو سنا دی، کچھ عطا بھی کریں۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر آپ ﷺ کے پاس اہل یمن میں سے کچھ لوگ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اہل یمن! تم بشارت قبول کرو، جبکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کی بشارتِ (اسلام) کو قبول کیا اور ہم آپ کے پاس دین سیکھنے کے لیے آئے ہیں۔ سب سے پہلے تو ہم آپ سے کائنات کی ابتدا کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہاں پر پہلے کیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پہلے اللہ عزوجل ہی کی ذات تھی اور اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اور اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا۔“ راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں ایک آدمی نے آ کر کہا کہ اے عمران بن حصین! اپنی سواری کا خیال کرو، وہ بھاگ گئی ہے۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹنی کی تلاش میں نکلا اور وہ ریتلا علاقہ پار کر چکی تھی۔ پھر کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نے یہ خواہش کی کہ کاش میں اونٹنی کے پیچھے نہ جاتا اور نبی کریم ﷺ کی باتیں سنتا رہتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17701
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري ٣١٩٠، ٣١٩٢، ٤٣٦٠، ٤٣٨٦»