حدیث نمبر: 17701
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَيْهَقِيُّ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ قَوْمٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا بَنِي تَمِيمٍ "، قَالُوا: قَدْ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ أُنَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: " اقْبَلُوا الْبُشْرَى يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ "، قَالُوا: قَدْ قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، جِئْنَا لِنَتَفَقَّهَ فِي الدِّينِ وَنَسْأَلَكَ عَنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ مَا كَانَ؟ قَالَ: " كَانَ اللهُ عَزَّ وَجلَّ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ قَبْلَهُ، وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ "، قَالَ: وَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا عِمْرَانُ بْنَ حُصَيْنٍ رَاحِلَتَكَ أَدْرِكْ نَاقَتَكَ، فَقَدْ ذَهَبَتْ فَانْطَلَقْتُ فِي طَلَبِهَا فَإِذَا السَّرَابُ يَنْقَطِعُ دُوْنَهَا، وَايْمُ اللهِ لَوَدِدْتُ أَنَّهَا ذَهَبَتْ وَأَنِّي لَمْ أَقُمْ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ آپ کے پاس بنی تمیم کے لوگ آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنو تمیم! خوش ہو جاؤ۔“ انہوں نے کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت تو سنا دی، کچھ عطا بھی کریں۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر آپ ﷺ کے پاس اہل یمن میں سے کچھ لوگ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اہل یمن! تم بشارت قبول کرو، جبکہ بنو تمیم نے اسے قبول نہیں کیا۔“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کی بشارتِ (اسلام) کو قبول کیا اور ہم آپ کے پاس دین سیکھنے کے لیے آئے ہیں۔ سب سے پہلے تو ہم آپ سے کائنات کی ابتدا کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہاں پر پہلے کیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پہلے اللہ عزوجل ہی کی ذات تھی اور اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اور اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا۔“ راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں ایک آدمی نے آ کر کہا کہ اے عمران بن حصین! اپنی سواری کا خیال کرو، وہ بھاگ گئی ہے۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹنی کی تلاش میں نکلا اور وہ ریتلا علاقہ پار کر چکی تھی۔ پھر کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں نے یہ خواہش کی کہ کاش میں اونٹنی کے پیچھے نہ جاتا اور نبی کریم ﷺ کی باتیں سنتا رہتا۔
حدیث نمبر: 17702
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوْبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، ثنا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ فِيهِ: قَالُوا: جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ: " كَانَ اللهُ وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ غَيْرَهُ، وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ، وَخَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، وَالْمُرَادُ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، ثُمَّ خَلَقَ الْمَاءَ، وَخَلَقَ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ، وَخَلَقَ الْقَلَمَ، وَأَمَرَهُ فَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا۔ پھر انہوں نے حدیث بیان کی اور اس میں یہ الفاظ اس طرح تھے کہ انہوں نے کہا: ”ہم آپ سے عالم کی پیدائش کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ہی تھا اور اس کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا اور آسمان و زمین کو پیدا کیا۔“
اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں عمر بن حفص بن غیاث سے روایت کیا ہے اور اس سے مراد، اللہ بہتر جانتا ہے، یہ ہے کہ پھر پانی کو پیدا کیا اور پانی پر عرش کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا اور اسے لکھنے کا حکم دیا، پھر اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھ دیا۔
اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں عمر بن حفص بن غیاث سے روایت کیا ہے اور اس سے مراد، اللہ بہتر جانتا ہے، یہ ہے کہ پھر پانی کو پیدا کیا اور پانی پر عرش کو پیدا کیا اور قلم کو پیدا کیا اور اسے لکھنے کا حکم دیا، پھر اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھ دیا۔
حدیث نمبر: 17703
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنبأ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنِ ⦗٥⦘ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ شَيْءٍ الْقَلَمُ، فقَالَ: " اكْتُبْ "، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَا أَكْتُبُ؟، قَالَ: " اكْتُبِ الْقَدَرَ "، قَالَ: فَجَرَى بِمَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ، قَالَ: ثُمَّ خَلَقَ النُّونَ فَدَحَا الْأَرْضَ عَلَيْهَا، فَارْتَفَعَ بُخَارُ الْمَاءِ فَفَتَقَ مِنْهُ السَّمَاوَاتِ، وَاضْطَرَبَ النُّونُ فَمَادَتِ الْأَرْضُ فَأُثْبِتَتْ بِالْجِبَالِ، وَإِنَّ الْجِبَالَ لَتُفَجَّرُ عَلَى الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چیزوں میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اسے کہا: لکھ۔ اس نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: تقدیر کو لکھو۔ پس اس نے جو کچھ اس دن سے لے کر قیامت تک ہونا تھا لکھ دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو پیدا کیا اور اس پر زمین کو پھیلا دیا۔ اس طرح پانی سے بخارات بلند ہوئے تو اس سے آسمان الگ ہو گئے اور مچھلی نے حرکت کی تو زمین کے اندر پھیلاؤ اور جنبش آئی تو اس کو پہاڑوں سے ثابت اور مضبوط کر دیا گیا اور اسی وجہ سے پہاڑ زمین پر قیامت تک فخر کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 17704
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ خَلَقَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ الْقَلَمُ وَأَمَرَهُ فَكَتَبَ كُلَّ شَيْءٍ يَكُونُ ". وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا فِي حَدِيثِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے پہلے اللہ عزوجل نے قلم کو پیدا کیا اور اسے ہر وہ چیز جو ہونے والی تھی لکھنے کا حکم دیا۔“ اور یہی چیز سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
حدیث نمبر: 17705
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانَ وَأَنَا أَسْمَعُ، أنبأ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَقَالَ: " خَلَقَ اللهُ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ فِيهَا الْجِبَالَ يَوْمَ الْأَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَخَلَقَ آدَمَ بَعْدَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُرَيْجِ بْنِ يُونُسَ، وَهَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑوں کو اتوار کے دن اور درختوں کو پیر کے دن اور مکروہ چیزوں کو منگل کے دن اور نور کو بدھ کے دن پیدا کیا اور جانداروں کو زمین پر جمعرات کے دن پھیلایا اور جمعہ کے دن عصر کے بعد آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا جو آخری مخلوق ہیں اور جمعہ کی گھڑیوں میں آخری گھڑی عصر اور مغرب کے درمیان ہے۔“
حدیث نمبر: 17706
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّامَغَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكرٍ الِإسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ الطُّوسِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأَظُنُّهُ عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يَسْأَلُ اللهَ فِيهَا عَبْدٌ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ". قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: إِنَّ اللهَ تَعَالَى بَدَأَ الْخَلْقَ فَخَلَقَ الْأَرْضَ يَوْمَ الْأَحَدِ وَيَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَخَلَقَ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَيَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَخَلَقَ الْأَقْوَاتَ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ ⦗٦⦘ شَيْءٍ يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ فَرَغَ مِنْ ذَلِكَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَتِلْكَ السَّاعَةُ مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جمعہ میں ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے جس میں کوئی بندہ اپنے رب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ وہ اسے عطا کر دیتے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے خلق کی ابتدا اتوار کو کی، اور پھر زمین کو پیدا کیا، اور منگل اور بدھ کو آسمانوں کو پیدا کیا، اور جمعرات اور جمعہ کو خوراک اور جو کچھ زمین میں ہے ان کو پیدا کیا، اور ان چیزوں کی پیدائش سے عصر کی نماز کے قریب فارغ ہوئے، پس یہ ہے وہ گھڑی جو عصر اور غروبِ شمس کے درمیان ہے۔
حدیث نمبر: 17707
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مُعْتَمِرٌ، أَخْبَرَنِي عَوْفٌ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَلَقَ اللهُ آدَمَ مِنْ أَدِيمِ الْأَرْضِ كُلِّهَا، فَخَرَجَتْ ذُرِّيَّتُهُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ، مِنْهُمُ الْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ وَالْأَسْمَرُ وَالْأَحْمَرُ، وَمِنْهُمْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَمِنْهُمُ السَّهْلُ وَالْحَزْنُ، وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو روئے زمین کی تمام مٹی سے پیدا فرمایا اور پھر اس کی اولاد اسی مناسبت سے پیدا ہوئی۔ ان میں سے بعض سفید ہیں اور بعض سیاہ، اور کچھ سانولے (گندمی) رنگ کے ہیں تو کچھ سرخ ہیں اور اسی طرح ان میں سے کچھ نرم مزاج ہیں اور کچھ خبیث النفس ہیں اور کچھ اچھے ہیں۔“
حدیث نمبر: 17708
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُلِقَ آدَمُ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ، مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَسْوَدُ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ، وَبَيْنَ ذَلِكَ وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا جو اس نے تمام زمین سے لی تھی تو آدم کی اولاد بھی اسی زمین کی مناسبت سے پیدا ہوئی۔ ان میں کچھ سرخ ہیں اور کچھ سیاہ اور کچھ نرم ہیں اور کچھ سخت اور اسی طرح کچھ اچھے ہیں اور کچھ برے۔“
حدیث نمبر: 17709
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْأَزْهَرِيِّ، وَحَمْدَانُ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ} [الذاريات: ٥٦]، قَالَ الشَّافِعِيُّ: خَلَقَ اللهُ الْخَلْقَ لِعِبَادَتِهِ َيَعْنِي مَا شَاءَ مِنْ عِبَادِهِ، أَوْ لِيَأْمُرَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ بِعِبَادَتِهِ، وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے نور سے پیدا کیے گئے، جنات آگ کے شعلے سے اور آدم کی پیدائش کا وصف بیان کر دیا گیا ہے (وہ تم جانتے ہی ہو)۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ [سورة الذاريات: 56] کہ ”میں نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا، یعنی اپنے بندوں میں سے جسے چاہا اپنی عبادت کا حکم دیا اور وہ جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم پر چلا کر منزلِ مقصود تک پہنچاتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ [سورة الذاريات: 56] کہ ”میں نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا، یعنی اپنے بندوں میں سے جسے چاہا اپنی عبادت کا حکم دیا اور وہ جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم پر چلا کر منزلِ مقصود تک پہنچاتا ہے۔
حدیث نمبر: 17710
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيُّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ " خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ يَوْمَئِذٍ شَيْءٌ اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَنْ عِلْمِ اللهِ "، ⦗٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ثُمَّ أَبَانَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَنَّ خِيرَتَهُ مِنْ خَلْقِهِ أَنْبِيَاؤُهُ، فَقَالَ: {كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ} [البقرة: ٢١٣]، فَجَعَلَ نَبِيَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَصْفِيَائِهِ دُونَ عِبَادِهِ بِالْأَمَانَةِ عَلَى وَحْيِهِ وَالْقِيَامِ بِحُجَّتِهِ فِيهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا اور پھر ان پر اپنا نور ڈالا۔ جس کو اس دن اس نور میں سے کچھ مل گیا تو اس نے تو ہدایت پا لی اور جس کو یہ نور نہ ملا تو وہ گمراہ ہو گیا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ قلمیں لکھ کر خشک ہو گئی ہیں اللہ کے علم کے مطابق۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر اللہ عزوجل نے واضح کر دیا کہ اس کی مخلوق میں سے بہترین مخلوق انبیاء ہیں جیسا کہ اس کا فرمان ہے: ﴿كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ﴾ [سورة البقرة: 213] کہ ”پہلے سب لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا“، پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کو اپنے بندوں میں سے اپنی وحی پر امانت کے لیے اور ان میں اپنی حجت قائم کرنے کے لیے چن لیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر اللہ عزوجل نے واضح کر دیا کہ اس کی مخلوق میں سے بہترین مخلوق انبیاء ہیں جیسا کہ اس کا فرمان ہے: ﴿كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ﴾ [سورة البقرة: 213] کہ ”پہلے سب لوگ ایک ہی امت تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا“، پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی ﷺ کو اپنے بندوں میں سے اپنی وحی پر امانت کے لیے اور ان میں اپنی حجت قائم کرنے کے لیے چن لیا۔
حدیث نمبر: 17711
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ إِدْرِيسَ السَّامِرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، إِلَى أَنْ قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كَمِ النَّبِيُّونَ؟، قَالَ: " مِائَةُ أَلْفِ نَبِيٍّ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفَ نَبِيٍّ ". قُلْتُ: كَمِ الْمُرْسَلُونَ مِنْهُمْ؟ قَالَ: " ثَلَاثُمِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ ". تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد میں داخل ہوا۔ پھر انہوں نے حدیث بیان کی حتیٰ کہ کہا کہ میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! کتنے نبی ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک لاکھ چوبیس ہزار۔“ میں نے کہا: ”ان میں رسول کتنے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین سو تیرہ۔“
حدیث نمبر: 17712
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلِيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَغَيْرِهِ، عَنِ اللَّيْثِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ خَاصَّتِهِ صَفْوَتَهُ، فَقَالَ: {إِنَّ اللهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ} [آل عمران: ٣٣]، وَسَاقَ الشَّافِعِيُّ الْكَلَامَ عَلَيْهِ إِلَى أَنْ قَالَ: ثُمَّ اصْطَفَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْرِ آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَنْزَلَ كُتُبَهُ قَبْلَ إِنْزَالِهِ الْفُرْقَانَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِفَتِهِ وَفَضِيلَةِ مَنْ تَبِعَهُ، فَقَالَ: {مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تُرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ} [الفتح: ٢٩] الْآيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء میں سے کوئی ایسا نبی نہیں مگر یہ کہ جتنے لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اسی قدر اللہ تعالیٰ اسے اپنی نشانیاں اور معجزات عطا فرماتے ہیں اور جو مجھے نشانی اور معجزہ دیا گیا ہے وہ وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف کی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ان سب سے زیادہ میرے پیروکار ہوں گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ خاص بندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [سورة آل عمران: 33] ”بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام اور نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام جہانوں پر چن لیا“ اور اس آیت پر امام شافعی رحمہ اللہ اپنا کلام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کے منتخب لوگوں میں سے حضرت محمد ﷺ کا انتخاب کیا اور محمد ﷺ پر فرقانِ حمید نازل کرنے سے پہلے اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور آپ ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی فضیلت کا وصف اس طرح بیان کیا: ﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ...﴾ [سورة الفتح: 29] ”محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کے ساتھی کافروں پر بڑے سخت ہیں اور آپس میں رحیم و کریم۔ آپ ان کو کبھی رکوع میں اور کبھی سجدے میں اللہ کا فضل تلاش کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ ان کی علامات ان کے چہروں میں کثرتِ سجود کی وجہ سے نمایاں ہوں گی۔ یہ ان کی مثال تورات میں ہے اور انجیل میں۔ وہ ایک کھیتی کی طرح ہیں جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر وہ اس پر کھڑی ہوئی اور مضبوط ہو کر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ خاص بندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [سورة آل عمران: 33] ”بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام اور نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام جہانوں پر چن لیا“ اور اس آیت پر امام شافعی رحمہ اللہ اپنا کلام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کے منتخب لوگوں میں سے حضرت محمد ﷺ کا انتخاب کیا اور محمد ﷺ پر فرقانِ حمید نازل کرنے سے پہلے اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور آپ ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی فضیلت کا وصف اس طرح بیان کیا: ﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ...﴾ [سورة الفتح: 29] ”محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کے ساتھی کافروں پر بڑے سخت ہیں اور آپس میں رحیم و کریم۔ آپ ان کو کبھی رکوع میں اور کبھی سجدے میں اللہ کا فضل تلاش کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ ان کی علامات ان کے چہروں میں کثرتِ سجود کی وجہ سے نمایاں ہوں گی۔ یہ ان کی مثال تورات میں ہے اور انجیل میں۔ وہ ایک کھیتی کی طرح ہیں جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر وہ اس پر کھڑی ہوئی اور مضبوط ہو کر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔“
حدیث نمبر: 17713
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ ⦗٨⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا سَيِّدُ بَنِي آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَأَوَّلُ شَافِعٍ، وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں قیامت کے دن بنی آدم کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میری قبر پھٹے گی (اور میں نکلوں گا) اور سب سے پہلے میں ہی شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول ہوگی۔“
حدیث نمبر: 17714
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ بُرْهَانٍ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَغَيْرُهُمْ، قَالُوا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوَّلُ شَفِيعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَكْثَرُ الْأَنْبِيَاءِ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَمَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا مَعَهُ مُصَدِّقٌ غَيْرُ وَاحِدٍ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن میں ہی سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا، اور قیامت کے دن تمام انبیاء سے زیادہ میرے ہی پیروکار ہوں گے، اور انبیاء میں سے بعض ایسے بھی ہوں گے کہ قیامت کے دن ان کا صرف ایک ہی آدمی تصدیق کرنے والا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 17715
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ سَيَّارٌ، ثنا يَزِيدُ الْفَقِيرُ، أنبأ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكُلُّ نَبِيٍّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الرَّبِيعِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ هُشَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں عطا کی گئیں: میری رعب کے ساتھ ایک مہینے کی مسافت پر (دشمن پر) مدد کی گئی اور میرے لیے مال غنیمت کو حلال کیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا اور میرے لیے زمین کو مسجد اور پاک بنا دیا گیا، تو میری امت کے جس آدمی کو بھی جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے وہ وہیں نماز پڑھ لے اور مجھے شفاعتِ (کبریٰ) عطا کی گئی اور ہر نبی کو ایک خاص قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کے لیے بھیجا گیا ہے۔“
حدیث نمبر: 17716
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلٌ عَلَى عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُورَةَ الْفَتْحِ، فَلَمَّا بَلَغَ {كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ} [الفتح: ٢٩]، قَالَ: لِيَغِيظَ اللهُ بِالنَّبِيِّ وَأَصْحَابِهِ الْكُفَّارَ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: " أَنْتُمُ الزَّرْعُ وَقَدْ دَنَا حَصَادُهُ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ لِأُمَّتِهِ: {كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} [آل عمران: ١١٠] الْآيَةَ، فَفَضَّلَهُمْ بِكَيْنُونَتِهِمْ مِنْ أُمَّتِهِ دُونَ أُمَمِ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت خیثمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے سورہ الفتح کی تلاوت کی۔ جب وہ اس مقام پر پہنچا: ﴿كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ [سورة الفتح: 29] تو انہوں نے کہا: «لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ» سے مراد ہے کہ اللہ نبی اور ان کے اصحاب سے کفار کو غصہ دلائے۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «أَنْتُمُ الزَّرْعُ قَدْ دَنَا حَصَادُهُ» ”تم وہ کھیتی ہو جس کے کاٹنے کا وقت قریب آگیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق فرمایا: ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ [سورة آل عمران: 110] اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اس لیے فضیلت دی ہے کہ وہ نبی ﷺ کی امت ہے نہ کہ سابقہ انبیاء کی امتوں کی وجہ سے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق فرمایا: ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ [سورة آل عمران: 110] اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اس لیے فضیلت دی ہے کہ وہ نبی ﷺ کی امت ہے نہ کہ سابقہ انبیاء کی امتوں کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 17717
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ⦗٩⦘ أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: ثُمَّ أَخْبَرَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَنَّهُ جَعَلَهُ فَاتِحَ رَحْمَتِهِ عِنْدَ فَتْرَةِ رُسُلِهِ، فَقَالَ: {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ} [المائدة: ١٩]، وَقَالَ: {هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ} [الجمعة: ٢]، وَكَانَ فِي ذَلِكَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ بَعَثَهُ إِلَى خَلْقِهِ لِأَنَّهُمْ كَانُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَالْأُمِّيِّينَ، وَأَنَّهُ فَتَحَ بِهِ رَحْمَتَهُ وَخَتَمَ بِهِ نُبُوَّتَهُ، فَقَالَ: {مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ، وَلَكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ} [الأحزاب: ٤٠].
حافظ ثناء اللہ
حضرت بہز بن حکیم بن معاویہ قشیری اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”تم ستر سے زیادہ امتوں میں تقسیم ہو جاؤ گے اور تم ان سب سے بہتر اور اللہ کے ہاں مکرم ہو گے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے والے رسل کی رسالت کے منقطع ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی (رسالت) اور آپ کی ذات کو فاتح رحمت قرار دیا ہے۔ لہٰذا فرمایا: ﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ﴾ [سورة المائدة: 19] ”اے اہل کتاب! یقیناً ہمارا رسول تمہارے پاس رسول کی آمد کے ایک وقفے کے بعد پہنچا ہے، جو تمہارے لیے صاف صاف بیان کر رہا ہے تاکہ تمہاری یہ بات نہ رہ جائے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھلائی، برائی سنانے والا آیا ہی نہیں۔ پس اب تو یقیناً خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا آ پہنچا ہے۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ﴾ [سورة الجمعة: 2] ”وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا۔۔۔“ ان آیات میں اس بات کی وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی تمام مخلوق کے لیے بھیجا ہے، کیونکہ ان میں اہل کتاب بھی تھے اور ناخواندہ بھی اور آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو کھولا اور سلسلہ نبوت کو ختم کیا اور اس بارے میں فرمان بھی جاری کر دیا: ﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ [سورة الأحزاب: 40] ”(لوگو!) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﷺ نہیں لیکن آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے والے رسل کی رسالت کے منقطع ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی (رسالت) اور آپ کی ذات کو فاتح رحمت قرار دیا ہے۔ لہٰذا فرمایا: ﴿يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ﴾ [سورة المائدة: 19] ”اے اہل کتاب! یقیناً ہمارا رسول تمہارے پاس رسول کی آمد کے ایک وقفے کے بعد پہنچا ہے، جو تمہارے لیے صاف صاف بیان کر رہا ہے تاکہ تمہاری یہ بات نہ رہ جائے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھلائی، برائی سنانے والا آیا ہی نہیں۔ پس اب تو یقیناً خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا آ پہنچا ہے۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ﴾ [سورة الجمعة: 2] ”وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا۔۔۔“ ان آیات میں اس بات کی وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی تمام مخلوق کے لیے بھیجا ہے، کیونکہ ان میں اہل کتاب بھی تھے اور ناخواندہ بھی اور آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو کھولا اور سلسلہ نبوت کو ختم کیا اور اس بارے میں فرمان بھی جاری کر دیا: ﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ [سورة الأحزاب: 40] ”(لوگو!) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ﷺ نہیں لیکن آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔“
حدیث نمبر: 17718
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے انبیاء پر چھ چیزوں سے فضیلت دی گئی: مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے اور میری رعب، دبدبہ کے ساتھ مدد کی گئی، میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا اور میرے لیے زمین کو پاک اور مسجد بنا دیا گیا اور مجھے تمام مخلوق کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا اور میرے ساتھ سلسلہ نبوت کو ختم کیا گیا۔“
حدیث نمبر: 17719
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح، قَالَ: وَثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَى دَارًا "، وَقَالَ يَزِيدُ: " بَنَى دَارًا " فَأَحْسَنَهَا وَأَكْمَلَهَا إِلَّا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا وَيَقُولُونَ لَوْلَا مَوْضِعُ هَذِهِ اللَّبِنَةِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَنَا مَوْضِعُ تِلْكَ اللَّبِنَةِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَاءَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ سُلَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ عَفَّانَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَضَى أَنْ أَظْهَرَ دِينَهُ عَلَى الْأَدْيَانِ، فَقَالَ: {هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ ⦗١٠⦘ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ} [التوبة: ٣٣] الْآيَةَ، قَالَ: وَقَدْ وَصَفْنَا بَيَانَ كَيْفَ يَظْهَرُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس شخص کی مانند ہے جس نے گھر بنایا اور اسے بڑا خوبصورت بنایا اور اسے ایک اینٹ کی جگہ کے سوا مکمل بنایا۔ لوگ اس میں داخل ہونے لگے اور اس سے تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے: کیوں نہیں اس اینٹ کی جگہ کو پر کیا گیا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پس وہ اینٹ کی جگہ میں ہوں۔ میں آیا اور میرے ساتھ انبیاء کا سلسلہ ختم ہو گیا ہ۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ﴾ [سورة التوبة: 33] ”وہی اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کرے“ اور امام صاحب نے اس کے غالب ہونے کی کیفیت کو دوسری جگہ بیان کر دیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ﴾ [سورة التوبة: 33] ”وہی اللہ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کرے“ اور امام صاحب نے اس کے غالب ہونے کی کیفیت کو دوسری جگہ بیان کر دیا ہے۔
حدیث نمبر: 17720
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقُلْنَا: أَلَا تَدْعُو اللهَ لَنَا أَلَا تَسْتَنْصِرُ اللهَ لَنَا قَالَ: فَجَلَسَ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، قَالَ: " وَاللهِ إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَيُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ الْحُفْرَةُ فَيُوضَعُ الْمِنْشَارُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ بِاثْنَتَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ، أَوْ يُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا بَيْنَ عَصَبِهِ وَلَحْمِهِ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ، وَلَيُتِمَّنَّ اللهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْكُمْ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخْشَى إِلَّا اللهَ أَوِ الذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت خباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے (تنگ دستی) کی شکایت کی اور آپ اپنی چادر سے کعبہ کے سایہ میں تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ ہم نے کہا: آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہیں کرتے، ہمارے لیے اللہ سے مدد کیوں نہیں مانگتے؟ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم میں سے جو پہلے (ایمان دار) لوگ تھے ان میں سے کسی ایک کو پکڑا جاتا اور اس کے لیے گڑھا کھودا جاتا۔ پھر اس کے سر پر آرا رکھا جاتا اور اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے۔ یہ چیز بھی ان کو ان کے دین سے نہ پھیر سکی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے پٹھوں اور گوشت کے درمیان سے نوچا جاتا اور یہ تکلیف بھی اسے اس کے دین سے نہ روک سکتی اور اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور ضرور غالب اور پورا کرے گا حتیٰ کہ تم میں سے ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا اور اسے اللہ کے علاوہ کسی کا ڈر نہ ہو گا، نہ بھیڑیے کا اپنی بکریوں پر لیکن تم جلدی کرتے ہو۔“