حدیث نمبر: 17703
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنبأ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنِ ⦗٥⦘ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ شَيْءٍ الْقَلَمُ، فقَالَ: " اكْتُبْ "، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَا أَكْتُبُ؟، قَالَ: " اكْتُبِ الْقَدَرَ "، قَالَ: فَجَرَى بِمَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ، قَالَ: ثُمَّ خَلَقَ النُّونَ فَدَحَا الْأَرْضَ عَلَيْهَا، فَارْتَفَعَ بُخَارُ الْمَاءِ فَفَتَقَ مِنْهُ السَّمَاوَاتِ، وَاضْطَرَبَ النُّونُ فَمَادَتِ الْأَرْضُ فَأُثْبِتَتْ بِالْجِبَالِ، وَإِنَّ الْجِبَالَ لَتُفَجَّرُ عَلَى الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چیزوں میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اسے کہا: لکھ۔ اس نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: تقدیر کو لکھو۔ پس اس نے جو کچھ اس دن سے لے کر قیامت تک ہونا تھا لکھ دیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: پھر اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو پیدا کیا اور اس پر زمین کو پھیلا دیا۔ اس طرح پانی سے بخارات بلند ہوئے تو اس سے آسمان الگ ہو گئے اور مچھلی نے حرکت کی تو زمین کے اندر پھیلاؤ اور جنبش آئی تو اس کو پہاڑوں سے ثابت اور مضبوط کر دیا گیا اور اسی وجہ سے پہاڑ زمین پر قیامت تک فخر کرتے ہیں۔