حدیث نمبر: 17700
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ يُؤْخَذُ بِذَنْبِ غَيْرِهِ، حَتَّى جَاءَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [النجم: ٣٨] قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالَّذِي سَمِعْتُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [النجم: ٣٨] أَنْ لَا يُؤْخَذَ أَحَدٌ بِذَنْبِ غَيْرِهِ؛ لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَزَى الْعِبَادَ عَلَى أَعْمَالِ أَنْفُسِهِمْ، وَكَذَلِكَ أَمْوَالُهُمْ لَا يَجْنِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ فِي مَالٍ إِلَّا حَيْثُ خَصَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ جِنَايَةَ الْخَطَأِ مِنَ الْحُرِّ مِنَ الْآدَمِيِّينَ عَلَى عَاقِلَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ

عمر بن اوس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام سے پہلے آدمی دوسرے کے کردہ گناہ میں بھی پکڑا جاتا تھا۔ ابراہیم علیہ السلام کے آنے کے بعد یہ حکم ہوا: ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ * أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ [سورة النجم: 37-38]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے کہ کسی کو کسی کے جرم کے بدلے نہیں پکڑا جائے گا؛ کیونکہ ہر بندے کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ اسی طرح مال میں ہے کہ ہر ایک اپنا ضامن ہے۔ ہاں قتلِ خطا میں نبی ﷺ نے ”دیت آزاد آدمی کے عصبہ پر رکھی ہے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الأشربة والحد فيها / حدیث: 17700
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»