السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: آخر وقت العشاء وفيه قولان أحدهما ثلث الليل، والآخر نصفه فمن قال: بالأول احتج بما باب: عشاء کے آخری وقت کا بیان، اور اس میں دو اقوال ہیں ایک تہائی رات اور دوسرا آدھی رات، پس جس نے پہلے قول کو اپنایا اس نے جس چیز سے استدلال کیا اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ فِي مَسْجِدِ الرَّصَافَةِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ثنا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ثنا شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ: " اشْهَدْ مَعَنْا الصَّلَاةَ " فَأَمَرَ ⦗٥٥٠⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ فَصَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَشَاءِ حِينَ وَجَبَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْغَدِ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ لَمْ يُخَالِطْهَا صُفْرَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ عِنْدَ ذَهَابِ ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ بَعْضِهِ شَكَّ أَبُو رَوْحٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ؟ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتَ وَقْتٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، عَنْ حَرَمِيِّ بْنِ عُمَارَةَ أَبِي رَوْحٍ وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ قَالَ: فَأَقَامَ الْعِشَاءُ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ.(الف) سلیمان بن بریدہ اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ نماز میں حاضر ہو“، پھر رسول اللہ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اندھیرے میں اذان دی، آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے ظہر کا حکم دیا جس وقت سورج بلند تھا، پھر آپ ﷺ نے مغرب کا حکم دیا جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر عشاء کا حکم دیا جس وقت سرخی غائب ہو گئی، پھر آپ ﷺ نے دوسرے روز حکم دیا، آپ ﷺ نے صبح کو روشن کیا، پھر آپ ﷺ نے ظہر کا حکم دیا، اس کو ٹھنڈا کیا، پھر عصر کا حکم دیا اور سورج سفید صاف تھا اس کے ساتھ زردی نہیں ملی تھی، پھر سرخی غائب ہونے سے پہلے مغرب کا حکم دیا، پھر ایک تہائی رات گزرنے کے وقت عشاء کا حکم دیا یا بعض رات گزرنے کے وقت۔ ابو روح کو شک ہوا ہے۔ جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سائل کہاں ہے؟ جو تو نے دیکھا ہے اس کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“
(ب) علقمہ بن مرثد سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے عشاء کی اقامت کہی جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا۔