السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: آخر وقت العشاء وفيه قولان أحدهما ثلث الليل، والآخر نصفه فمن قال: بالأول احتج بما باب: عشاء کے آخری وقت کا بیان، اور اس میں دو اقوال ہیں ایک تہائی رات اور دوسرا آدھی رات، پس جس نے پہلے قول کو اپنایا اس نے جس چیز سے استدلال کیا اس کا بیان
حدیث نمبر: 1750
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا مُسَدَّدٌ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا حَتَّى أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: وَصَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ: " الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے نبی ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی۔۔۔ اس میں ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا: انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، جس وقت سرخی غائب ہوچکی تھی پھر جب دوسرا دن آیا۔ اس میں ہے کہ عشاء کی نماز تہائی رات تک پڑھائی، پھر فرمایا: ”نماز کے اوقات کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ وقت ان دونوں کے درمیان ہے۔“