کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عشاء کے آخری وقت کا بیان، اور اس میں دو اقوال ہیں ایک تہائی رات اور دوسرا آدھی رات، پس جس نے پہلے قول کو اپنایا اس نے جس چیز سے استدلال کیا اس کا بیان
حدیث نمبر: 1749
ب وَفِيهِ قَوْلَانِ أَحَدُهُمَا ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَالْآخَرُ نِصْفُهُ فَمَنْ قَالَ: بِالْأَوَّلِ احْتَجَّ بِمَا.
حافظ ثناء اللہ
اور اس میں دو اقوال ہیں: پہلا تہائی رات ہے، اور دوسرا آدھی رات ہے۔ پس جس نے پہلا قول اختیار کیا، اس نے اس بات سے استدلال کیا کہ...
حدیث نمبر: 1749
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ ثنا وَكِيعٌ ثنا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ وَصَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ ثُلُثَ اللَّيْلِ الْأَوَّلَ يَعْنِي فِي الْمَرَّةِ الْآخِرَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کرائی۔۔۔“ اس میں ہے کہ ”مجھ کو عشاء کی نماز رات کے پہلے تہائی حصے میں پڑھائی، یعنی دوسری مرتبہ۔“
حدیث نمبر: 1750
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا مُسَدَّدٌ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا حَتَّى أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: وَصَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ: " الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے نبی ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی۔۔۔ اس میں ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا: انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، جس وقت سرخی غائب ہوچکی تھی پھر جب دوسرا دن آیا۔ اس میں ہے کہ عشاء کی نماز تہائی رات تک پڑھائی، پھر فرمایا: ”نماز کے اوقات کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ وقت ان دونوں کے درمیان ہے۔“
حدیث نمبر: 1751
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ فِي مَسْجِدِ الرَّصَافَةِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ثنا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ثنا شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ: " اشْهَدْ مَعَنْا الصَّلَاةَ " فَأَمَرَ ⦗٥٥٠⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ فَصَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَشَاءِ حِينَ وَجَبَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْغَدِ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ لَمْ يُخَالِطْهَا صُفْرَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ عِنْدَ ذَهَابِ ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ بَعْضِهِ شَكَّ أَبُو رَوْحٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ؟ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتَ وَقْتٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، عَنْ حَرَمِيِّ بْنِ عُمَارَةَ أَبِي رَوْحٍ وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ قَالَ: فَأَقَامَ الْعِشَاءُ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سلیمان بن بریدہ اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ نماز میں حاضر ہو“، پھر رسول اللہ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اندھیرے میں اذان دی، آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے ظہر کا حکم دیا جس وقت سورج بلند تھا، پھر آپ ﷺ نے مغرب کا حکم دیا جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر عشاء کا حکم دیا جس وقت سرخی غائب ہو گئی، پھر آپ ﷺ نے دوسرے روز حکم دیا، آپ ﷺ نے صبح کو روشن کیا، پھر آپ ﷺ نے ظہر کا حکم دیا، اس کو ٹھنڈا کیا، پھر عصر کا حکم دیا اور سورج سفید صاف تھا اس کے ساتھ زردی نہیں ملی تھی، پھر سرخی غائب ہونے سے پہلے مغرب کا حکم دیا، پھر ایک تہائی رات گزرنے کے وقت عشاء کا حکم دیا یا بعض رات گزرنے کے وقت۔ ابو روح کو شک ہوا ہے۔ جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سائل کہاں ہے؟ جو تو نے دیکھا ہے اس کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“
(ب) علقمہ بن مرثد سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے عشاء کی اقامت کہی جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا۔
(ب) علقمہ بن مرثد سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے عشاء کی اقامت کہی جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا۔
حدیث نمبر: 1752
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اعْتَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ فَقَالَ: الصَّلَاةَ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرُكُمْ" وَلَا تُصَلَّى يَوْمَئِذٍ إِلَّا بِالْمَدِينَةِ وَكَانُوا يُصَلُّونَ الْعَتَمَةُ فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ شَفَقُ اللَّيْلِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَكَذَلِكَ أَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَمَنْ قَالَ: بِالْقَوْلِ الثَّانِي احْتَجَّ.
حافظ ثناء اللہ
زہری کہتے ہیں کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز اندھیرے میں ادا کی، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آواز دی کہ نماز! بچے اور عورتیں سو گئی ہیں، رسول اللہ ﷺ نکلے اور فرمایا: ”تمہارے علاوہ اہل زمین سے کوئی بھی اس کا انتظار نہیں کر رہا۔“ ان دنوں مدینہ میں نماز پڑھی جاتی تھی اور وہ عشاء کی نماز رات کی سرخی غروب ہونے سے لے کر ایک تہائی رات تک پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1753
بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا تَمْتَامٌ ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ثنا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْعَتَكِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: " قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: " وَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ قَتَادَةَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ وَفِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔“
(ب) قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ درمیانی آدھی رات تک۔
(ج) اور ہشام کی حدیث میں قتادہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ: ”جب تم عشاء کی نماز پڑھو تو اس کا وقت نصف رات تک ہے۔“
(ب) قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ درمیانی آدھی رات تک۔
(ج) اور ہشام کی حدیث میں قتادہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ: ”جب تم عشاء کی نماز پڑھو تو اس کا وقت نصف رات تک ہے۔“
حدیث نمبر: 1754
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ ⦗٥٥١⦘ مَالِكٍ، أَنَّهُ سُئِلَ: هَلِ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ " أَخَّرَ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: " النَّاسُ قَدْ صَلُّوا وَرَقَدُوا وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي الصَّلَاةِ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ " فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيضِ خَاتَمِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُنِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے انگوٹھی بنائی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! ایک رات آپ ﷺ نے عشا کی نماز نصف رات تک مؤخر کر دی، جب آپ ﷺ نے نماز پڑھائی تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے اور تم نماز میں ہی رہے ہو جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو۔“ گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔
حدیث نمبر: 1755
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا قُرَّةُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ ثنا قُرَّةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " نَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ فَجَاءَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى قَالَ: فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيضِ خَاتَمِهِ حَلْقَةُ فِضَّةٍ " وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ حَتَّى مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّبَّاحِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات ہم نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ تقریباً نصف رات ہوگئی۔ آپ ﷺ آئے اور نماز پڑھائی۔ گویا میں چاندی کے حلقے کو اور آپ ﷺ کی انگوٹھی کی چمک کو دیکھ رہا ہوں۔ ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ نصف رات گزر گئی اور باقی اسی کے ہم معنی ہے۔
حدیث نمبر: 1756
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ثنا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سُئِلَ: هَلْ كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ عِنْدَ شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي الصَّلَاةِ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ " قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيضِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ وَأَشَارَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى وَوَصَفَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کی انگوٹھی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، ایک رات آپ ﷺ نے عشا کو مؤخر کر دیا، آدھی رات یا اس کے قریب قریب وقت گزر گیا، پھر آپ ﷺ آئے اور فرمایا: ”لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم نماز میں رہے ہو جب سے تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا میں آپ ﷺ کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں اور بائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کی تعریف کی۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا میں آپ ﷺ کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں اور بائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کی تعریف کی۔
حدیث نمبر: 1757
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَرَفَعَ أُصْبُعَهُ الْيُسْرَى الْخِنْصَرَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی انگوٹھی کے متعلق سوال کیا۔۔۔ باقی حدیث اسی طرح ہے، صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بائیں چھوٹی انگلی اٹھائی۔
حدیث نمبر: 1758
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْخُرَاسَانِيِّ الْعَدْلُ ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ: " إِنَّكُمْ ⦗٥٥٢⦘ لَنْ تَزَالُوا فِي الصَّلَاةِ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا وَلَوْلَا كِبَرُ الْكَبِيرِ وَضَعْفُ الضَّعِيفِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: وَذُو الْحَاجَةِ - لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " هَكَذَا رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَغَيْرُهُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ وَخَالَفَهُمْ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ دَاوُدَ فَقَالَ: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز کو نصف رات کے قریب تک مؤخر کیا، پھر نکلے اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی اور فرمایا: ”تم نماز ہی میں رہے ہو جب تک تم اس کا انتظار کرتے رہے اور اگر مجھے بوڑھے کے بڑھاپے اور ضعیف کے ضعف کا خیال نہ ہوتا“ (راوی کہتا ہے: میرے خیال میں آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا) ”اور کام والے کے کام کا، تو میں ضرور اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔“
حدیث نمبر: 1759
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْفَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ فَقَالَ: " صَلُّوا وَرَقَدُوا وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَهَا أَمَا إِنَّكُمْ فِي الصَّلَاةِ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَكِبَرُ الْكَبِيرِ لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " وَفِي رِوَايَةِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا وَفِي رِوَايَةِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ وَفِي حَدِيثِ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ وَكَانَ لَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ثُمَّ قَالَ: إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ وَقَالَ مُعَاذٌ: قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُهُ غُرَّةً فَقَالَ: أَوْ ثُلُثُ اللَّيْلِ وَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ: إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ: إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کے پاس آئے، وہ عشا کا انتظار کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم اس کا انتظار کر رہے ہو، یقیناً تم نماز میں رہے ہو جب سے تم اس کا انتظار کر رہے ہو۔ اگر مجھے ضعیف کے ضعف اور بوڑھے کے بڑھاپے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔“
(ب) شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ان سے دوسری بار ملا تو انھوں نے کہا: یا رات کے تہائی حصے تک۔ خالد بن حارث رحمہ اللہ، شعبہ رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں: نصف رات تک۔ ابو منہال رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ تہائی رات تک۔
(ب) شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ان سے دوسری بار ملا تو انھوں نے کہا: یا رات کے تہائی حصے تک۔ خالد بن حارث رحمہ اللہ، شعبہ رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں: نصف رات تک۔ ابو منہال رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ تہائی رات تک۔
حدیث نمبر: 1760
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ثنا أَبُو مُوسَى ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ صَلَاةِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتَ الْعَصْرِ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءُ حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ " أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ ⦗٥٥٣⦘ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَحْسَبُ يَحْيَى يُرِيدُ أَنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا وَقَالَ: إِنَّمَا يُرْوَى عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنَ التَّارِيخِ: حَدِيثُ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا " رَوَاهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ مُرْسَلًا، قَالَ الشَّيْخُ: وَبِمَعْنَاهُ ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کا اول اور آخری وقت ہے۔ ظہر کا اول وقت جس وقت سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت جس وقت (نماز) عصر (کا وقت) ہو جائے اور عصر کا اول وقت جس وقت اس کا وقت داخل ہو جائے اور اس کا آخری وقت جس وقت سورج زرد ہو جائے اور مغرب کا اول وقت جس وقت سورج غروب ہو جائے اور اس کا آخری وقت جس وقت سرخی غائب ہو جائے اور عشا کا اول وقت جس وقت سرخی غائب ہو جائے اور اس کا آخری وقت جس وقت نصف رات ہو جائے اور فجر کا اول وقت جس وقت فجر طلوع ہو جائے اور اس کا آخری وقت جب سورج طلوع ہو جائے۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کا اول اور آخری وقت ہے۔“
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے ہم معنی نقل کیا ہے۔
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کا اول اور آخری وقت ہے۔“
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کے ہم معنی نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1761
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّضْرِ ثنا مُعَاوِيَةُ عَنْ عَمْرٍو وَثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: " إِنَّ لِلصَّلَاةِ أَوَّلًا وَآخِرًا " فَذَكَرَهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيُّ وَأَبُو زُبَيْدٍ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نماز کا اول اور آخری وقت ہے، پھر انہوں نے اس روایت کو بیان کیا۔
حدیث نمبر: 1762
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو الْأَشْعَثِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ثنا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ مُجَاهِدٍ، كَانَ يَقُولُ: انْظُرُوا يُوَافِقُ حَدِيثِي مَا سَمِعْتُمْ مِنَ الْكِتَابِ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنْ صَلُّوا الظُّهْرَ حِينَ تَرْتَفِعُ الشَّمْسُ يَعْنِي تَزُولُ، وَصَلُّوا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، وَصَلُّوا الْمَغْرِبَ حِينَ تَغِيبُ الشَّمْسُ، وَصَلُّوا الْعِشَاءَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، وَصَلُّوا الصُّبْحَ بِغَلَسٍ أَوْ بِسَوَادٍ وَأَطِيلُوا الْقِرَاءَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دیکھو میری حدیث کتاب اللہ کے موافق ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ جس وقت سورج بلند ہو تو ظہر کی نماز پڑھو، یعنی جب وہ ڈھل جائے، اور عصر کی نماز پڑھو سورج سفید صاف ہو اور مغرب کی نماز پڑھو جس وقت سورج غائب ہو جائے، اور فرمایا: عشا کی نماز آدھی رات تک پڑھو اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھو یا سیاہی میں اور قراءت کو لمبا کرو۔